نیویارک (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی جریدہ ’’بلومبرگ‘‘ کے مطابق پاکستان اور امریکا کے مابین تعلقات میں غیر متوقع طور پر بہتری آئی ہے جو پاکستان کیلئے باعثِ تسکین ہے تاہم بھارت کیلئے صورتحال پریشان کن ہے، اِس سب کا آغاز ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات سے شروع ہوا جبکہ پاکستان نے اپنے پتے زبردست انداز میں کھیلے ہیں۔
پاکستان — جو دنیا میں سفارتی لحاظ سے تقریباً تنہائی کا شکار تھا — نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے پتے زبردست انداز میں کھیلے ہیں جس کے بعد پاکستان عالمی سطح پر ابھر کر سامنے آیا ہے جبکہ خطہ میں طاقت کا توازن میں تبدیل ہو گیا ہے۔
ہم امریکہ کے ساتھ ٹیرف سے متعلق معاملات پر بات چیت کر رہے ہیں، اور اب تک پیش رفت شاندار رہی ہے۔ ہم 5G، توانائی، زراعت، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے بھی امریکہ سے رابطے میں ہیں۔ صدر ٹرمپ کے وژن سے میں متاثر ہوں، جو تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیرف کو… pic.twitter.com/lDJZJjeAFg
— The Thursday Times (@thursday_times) June 4, 2025
پاکستان اُن چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے خاطر خواہ رکاوٹوں کے بغیر امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا جو — سوئٹزرلینڈ اور برازیل کے برعکس — اور خاص طور پر پاکستان کے ازلی حریف بھارت کی صورتحال کے برعکس ہے۔
اسلام آباد اور ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے درمیان پہلی باضابطہ بات چیت اُس وقت ہوئی جب رواں برس کے آغاز میں بھارت اور پاکستان جنگ کے قریب پہنچ گئے تھے اور دونوں کے مابین میزائلز اور ڈرونز حملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔
میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ختم کروائی اور اب پاکستان کیساتھ تجارتی معاہدہ کرنے جارہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک مرتبہ پھر پاک بھارت جنگ پر بیان pic.twitter.com/ShynQ7UUM1— The Thursday Times (@thursday_times) June 21, 2025
امریکی اخبار کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک جنگ بندی کا اعلان کیا جسے پاکستان نے خوشی سے قبول کیا جبکہ بھارت نے امریکی صدر کے اِس دعویٰ کو مسترد کر دیا کہ انہوں نے یہ جنگ بندی کرائی تھی۔
بعدازاں بھارت کے وائٹ ہاؤس سے تعلقات — ماضی کے تناظر میں دیکھا جائے تو — وہیں سے بگڑنا شروع ہو گئے۔
دوسری جانب پاکستان کے پاس کچھ ایسے وسائل ہیں جن کے باعث پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی دلچسپی کو اپنی طرف کھینچ لیا۔
بلومبرگ نے لکھا ہے کہ پاکستان کے پاس دنیا کے سب سے بڑے غیر استعمال شدہ سونے اور تانبے کے ذخائر کا کچھ حصہ موجود ہے جس پر یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ امریکا یوکرین کی طرز پر معدنیات کا کوئی معاہدہ چاہتا ہے۔ پاکستان نے امریکی سرمایہ کاری بھی حاصل کی ہے اور ٹرمپ نے اپنے ایک پیغام میں واضح کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر اُس کے بڑے تیل کے ذخائر کو ترقی دینے پر کام کریں گے۔
پھر آتا ہے کرپٹو — ٹرمپ کی حمایت یافتہ ورلڈ لبرٹی فنانشل کے نمائندے پاک بھارت کشیدگی کے دوران اسلام آباد پہنچے اور اعلان کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل کرنسیز کے فروغ پر کام کریں گے۔
یہ سب غیر متوقع طور پر ایک دوپہر کے کھانے کے دوران ہونے والی ملاقات پر ختم ہوا جو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پاکستان کے سب سے طاقتور شخص آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ساتھ ہوئی۔ امریکی صدر کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا گیا جو کہ اپنی نوعیت کا ایک اہم لمحہ تھا، اِس ملاقات کے بعد پاکستانی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کرے گی۔
گزشتہ ہفتے پاکستانی آرمی چیف (فیلڈ مارشل عاصم منیر)، جو بے حد متاثر کن شخصیت کے حامل ہیں، میرے دفتر میں موجود تھے، ان سے میری ملاقات ہوئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ pic.twitter.com/13O1ghGwHf— The Thursday Times (@thursday_times) June 25, 2025
بلومبرگ کے مطابق یہ حالیہ طور پر امریکی تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی ہے جبکہ بائیڈن انتظامیہ کے دوران پاکستان اور امریکہ کے درمیان بمشکل ہی کسی اعلیٰ سطح کی بات چیت ہوئی تھی اور بھارت کو طویل عرصہ تک امریکا نے چین کے مقابل ایک اہم شراکت دار کے طور پر ترجیح دی۔
پاکستان کے مسائل اپنی جگہ ہیں؛ یہ موسمیاتی تبدیلی کی صفِ اوّل پر ہے اور صرف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے قرضوں کی مدد سے اپنی معیشت کو مستحکم کر سکا ہے۔
تاہم اسلام آباد میں یہ اطمینان ہے کہ اب پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ گرم جوشی پر مبنی تعلقات کی توقع کر سکتا ہے — اور یہ نیا اعتماد بھارت کی پریشانی میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔



