spot_img

تجزیہ: پاک امریکا تعلقات میں غیر متوقع بہتری، بھارت کیلئے صورتحال پریشان کن ہے۔ جریدہ بلومبرگ

پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں غیر متوقع بہتری آئی ہے، بھارت کیلئے صورتحال پریشان کن ہے، وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کیلئے کھانے کی دعوت پر ہونے والی ملاقات اہم ثابت ہوئی ہے۔

نیویارک (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی جریدہ ’’بلومبرگ‘‘ کے مطابق پاکستان اور امریکا کے مابین تعلقات میں غیر متوقع طور پر بہتری آئی ہے جو پاکستان کیلئے باعثِ تسکین ہے تاہم بھارت کیلئے صورتحال پریشان کن ہے، اِس سب کا آغاز ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات سے شروع ہوا جبکہ پاکستان نے اپنے پتے زبردست انداز میں کھیلے ہیں۔

پاکستان — جو دنیا میں سفارتی لحاظ سے تقریباً تنہائی کا شکار تھا — نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے پتے زبردست انداز میں کھیلے ہیں جس کے بعد پاکستان عالمی سطح پر ابھر کر سامنے آیا ہے جبکہ خطہ میں طاقت کا توازن میں تبدیل ہو گیا ہے۔

پاکستان اُن چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے خاطر خواہ رکاوٹوں کے بغیر امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا جو — سوئٹزرلینڈ اور برازیل کے برعکس — اور خاص طور پر پاکستان کے ازلی حریف بھارت کی صورتحال کے برعکس ہے۔

اسلام آباد اور ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے درمیان پہلی باضابطہ بات چیت اُس وقت ہوئی جب رواں برس کے آغاز میں بھارت اور پاکستان جنگ کے قریب پہنچ گئے تھے اور دونوں کے مابین میزائلز اور ڈرونز حملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔

امریکی اخبار کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک جنگ بندی کا اعلان کیا جسے پاکستان نے خوشی سے قبول کیا جبکہ بھارت نے امریکی صدر کے اِس دعویٰ کو مسترد کر دیا کہ انہوں نے یہ جنگ بندی کرائی تھی۔

بعدازاں بھارت کے وائٹ ہاؤس سے تعلقات — ماضی کے تناظر میں دیکھا جائے تو — وہیں سے بگڑنا شروع ہو گئے۔

دوسری جانب پاکستان کے پاس کچھ ایسے وسائل ہیں جن کے باعث پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی دلچسپی کو اپنی طرف کھینچ لیا۔

بلومبرگ نے لکھا ہے کہ پاکستان کے پاس دنیا کے سب سے بڑے غیر استعمال شدہ سونے اور تانبے کے ذخائر کا کچھ حصہ موجود ہے جس پر یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ امریکا یوکرین کی طرز پر معدنیات کا کوئی معاہدہ چاہتا ہے۔ پاکستان نے امریکی سرمایہ کاری بھی حاصل کی ہے اور ٹرمپ نے اپنے ایک پیغام میں واضح کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر اُس کے بڑے تیل کے ذخائر کو ترقی دینے پر کام کریں گے۔

پھر آتا ہے کرپٹو — ٹرمپ کی حمایت یافتہ ورلڈ لبرٹی فنانشل کے نمائندے پاک بھارت کشیدگی کے دوران اسلام آباد پہنچے اور اعلان کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل کرنسیز کے فروغ پر کام کریں گے۔

یہ سب غیر متوقع طور پر ایک دوپہر کے کھانے کے دوران ہونے والی ملاقات پر ختم ہوا جو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پاکستان کے سب سے طاقتور شخص آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ساتھ ہوئی۔ امریکی صدر کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا گیا جو کہ اپنی نوعیت کا ایک اہم لمحہ تھا، اِس ملاقات کے بعد پاکستانی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کرے گی۔

بلومبرگ کے مطابق یہ حالیہ طور پر امریکی تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی ہے جبکہ بائیڈن انتظامیہ کے دوران پاکستان اور امریکہ کے درمیان بمشکل ہی کسی اعلیٰ سطح کی بات چیت ہوئی تھی اور بھارت کو طویل عرصہ تک امریکا نے چین کے مقابل ایک اہم شراکت دار کے طور پر ترجیح دی۔

پاکستان کے مسائل اپنی جگہ ہیں؛ یہ موسمیاتی تبدیلی کی صفِ اوّل پر ہے اور صرف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے قرضوں کی مدد سے اپنی معیشت کو مستحکم کر سکا ہے۔

تاہم اسلام آباد میں یہ اطمینان ہے کہ اب پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ گرم جوشی پر مبنی تعلقات کی توقع کر سکتا ہے — اور یہ نیا اعتماد بھارت کی پریشانی میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔

خبریں

More from The Thursday Times