عمران خان کی سیاست پر بشریٰ بی بی کے غیر معمولی اثر، توہم پرستی پر مبنی فیصلوں، اور فوجی پشت پناہی کے ذریعے اقتدار تک پہنچنے کے بیانیے نے نہ صرف ان کے دعوائے شفاف حکمرانی کو کمزور کیا بلکہ پی ٹی آئی کو ایک شخصی جماعت کے طور پر بے نقاب کیا، جہاں فیصلے ادارہ جاتی طریقہ کار کے بجائے روحانی اشاروں، ذاتی پسند ناپسند اور طاقتور حلقوں کی مرضی سے طے پاتے رہے۔
پاکستان نے امریکہ کو بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں بحیرۂ عرب پر نئی بندرگاہ قائم کرنے اور اس کا انتظام سنبھالنے کی پیشکش کی ہے۔ منصوبے کا مقصد امریکی سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کے معدنی وسائل تک واشنگٹن کی رسائی بڑھانا ہے۔ یہ اقدام اسلام آباد کی نئی سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جو چین، امریکہ، ایران اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعلقات کو ازسرِنو ترتیب دینے پر مرکوز ہے۔
پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر جو عموماً پسِ پردہ کام کرتے ہیں، اب بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے کشیدگی کے ماحول میں مرکزی کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ نہ صرف فوجی مشقوں میں سرگرم نظر آ رہے ہیں بلکہ اپنے دوٹوک بیانات کے ذریعے قومی سلامتی سے متعلق نئی پالیسی سمت کا تعین بھی کر رہے ہیں۔
Army Chief General Asim Munir stresses that a stable state underpins politics, highlighting the strong public-military bond. He warns against divisive narratives and urges unity in implementing the National Action Plan to strengthen Pakistan’s security.
ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ عوام اور فوج کے درمیان خاص رشتہ ہے، خلیج کا جھوٹا بیانیہ مخصوص ایجنڈے کے تحت چلایا جاتا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق حوصلہ مند ہے، متحد ہو کر چلیں گے تو صورتحال بہتر ہو گی۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔