گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ براہِ راست اقتصادی اور دفاعی تعاون بڑھانے کے اقدامات کیے ہیں، جن کے تحت اسلام آباد نے پہلی بار یورینیم سے افزودہ نایاب معدنیات امریکہ بھیجی ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کا دفاعی معاہدہ بھی قریب ہے۔ یہ معاہدے بھارت کیلئے ایک بڑا اسٹریٹجک دھچکا ہیں۔
پاکستان نے امریکہ کو بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں بحیرۂ عرب پر نئی بندرگاہ قائم کرنے اور اس کا انتظام سنبھالنے کی پیشکش کی ہے۔ منصوبے کا مقصد امریکی سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کے معدنی وسائل تک واشنگٹن کی رسائی بڑھانا ہے۔ یہ اقدام اسلام آباد کی نئی سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جو چین، امریکہ، ایران اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعلقات کو ازسرِنو ترتیب دینے پر مرکوز ہے۔
ہمیشہ سب کو ساتھ لے کر چلے ہیں، تعاون کا رشتہ مزید مضبوط بنائیں گے، ہم نے بلوچستان سے دہشتگردی اور لوڈشیڈنگ کو ختم کیا، اگر سی پیک اپنے اہداف کے مطابق چلنے دیا جاتا تو بلوچستان اچھی پوزیشن میں ہوتا، نواز شریف
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس سے پاکستان کا کردار تیز رفتار علاقائی سفارت کاری میں مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
Iran’s Abbas Araghchi is back in Islamabad within around 24 hours of leaving for Muscat, keeping Pakistan at the centre of high-stakes US-Iran diplomacy.
Trump has cancelled his representatives’ planned trip to Islamabad for talks with Iran, saying too much time was being spent on travel and that Tehran can contact Washington directly if it wants negotiations.
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات۔عراقچی نے کہا کہ پاکستان ایران کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتا ہے،مذاکرات میں جنگ بندی، علاقائی امن اور پاک ایران تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met Prime Minister Shehbaz Sharif in Islamabad, describing Pakistan as holding a significant place in Tehran’s foreign policy outlook while briefing Pakistan’s leadership on ceasefire developments, regional stability and bilateral cooperation.