ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں پاک بھارت ٹاکرا؛ اب تک کس کا پلڑا بھاری رہا، کون سے کھلاڑیوں نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ناقص کارکردگی دکھانے والوں میں سرِفہرست جگہ بنانے والے کون ہیں؟
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان اور بھارت کے مابین میچ کا نہ ہونا آئی سی سی کیلئے بڑے مالی نقصان کا باعث بن سکتا ہے جبکہ اُس کی مالی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ بنگلہ دیش کے دستبردار ہونے کے باعث ایونٹ پہلے ہی متاثر ہو چکا ہے۔
بھارت نے نیوزی لینڈ کے خلاف ورلڈ کپ کے سیمی فائنل سے قبل ممبئی گراونڈ میں پچ کو تبدیل کیا، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اس معاملہ پر خاموشی کیے ہوئے ہے، ایسا چلتا رہا تو بین الاقوامی کرکٹ تباہ ہو جائے گی۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔