اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں دھوکہ دیا ہے، میں آج سے اسٹیبلشمنٹ سمیت کسی بھی فریق سے مذاکرات کے دروازے بند کر رہا ہوں، اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر 22 اگست کا جلسہ منسوخ کیا، اجازت ملے یا نہ ملے 21 ستمبر کو لاہور میں جلسہ کریں گے، گنڈاپور کے بیان کر معافی مانگنے والا پارٹی چھوڑ دے۔
پنجاب پر لشکر کشی کی دھمکیاں دینے والوں کا ہم اٹک پل پر انتظار کریں گے، پرسوں پی ٹی آئی نے پاکستان کا وجود چیلنج کیا، کل کا عمل پرسوں کا ری ایکشن تھا، پی ٹی آئی والے ضمیر فروش اور رنگ باز ہیں، عمران خان ڈگی میں بیٹھ کر جنرل باجوہ سے ملنے جاتا تھا۔
نو مئی کو جو غلط تھا وہ غلط تھا۔ کل رات جو ہوا وہ پاکستان کی جمہوریت کا 9 مئی تھا۔ ملکی تاریخ میں 10 ستمبر 2024 کو سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ پارلیمنٹ پر دھاوا بولنے والوں پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیے۔ یہ سپیکر، وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو پر حملہ ہے۔
بات فیض حمید کے کورٹ مارشل پر نہیں رکے گی بلکہ یہ پاکستان سے غداری کا معاملہ ہے جس کی سزا موت ہے، مراد سعید پکڑا گیا تو ارشد شریف قتل کیس منطقی انجام تک پہنچ جائے گا اور پھر عمران خان اور فیض حمید کہیں نہیں جا سکتے۔
عمران خان کو 2 ہفتوں میں رہا نہ کیا تو خدا کی قسم ہم خود رہا کریں گے، کوئی رکاوٹ بنا تو ہتھکڑیاں لگا کر گھسیٹوں گا، فیض حمید کیا ہمیں وراثت یا جہیز میں ملا؟ تمہارا جنرل تھا، اپنا ادارہ ٹھیک کرو ورنہ ہم ٹھیک کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔