توشہ خانہ کیس تفصیلی فیصلہ کیمطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی نے وزیراعظم آفس کا غلط استعمال کرتے ہوئے 157 کروڑ سے زائد کا مالی فائدہ حاصل کیا۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے سعودی ولی عہد سے ملے 3 ارب 16 کروڑ کے گراف جیولری سیٹ کو اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے صرف 90 لاکھ میں حاصل کیا۔
نواز شریف اور عمران خان پرانی سیاست کرنا چاہتے ہیں، میں مسلم لیگ (ن) اور تحریکِ انصاف میں سے کسی کا ساتھ نہیں دینا چاہتا، میاں صاحب کے کردار سے سخت مایوس ہوں، اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کو روکنے کیلئے جدوجہد کرنا پڑے گی۔
توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو چودہ چودہ برس قید بامشقت اور ایک ارب 57 کروڑ 40 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی ہے جبکہ عمران خان کو 10 برس کیلئے نااہل بھی قرار دے دیا گیا ہے۔
آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو دس دس قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی۔
بلاول بھٹو عمران خان ثانی بننے میں مصروفِ عمل ہیں، ان کی تقاریر میں عمران خان کے روایتی انداز کی جھلک دکھائی دیتی ہے، وہ برق رفتاری سے تُو تَڑاق والی زبان بولتے نظر آ رہے ہیں، عمران خان کی پھیلائی پولرائزیشن کے باعث منقسم معاشرہ مزید نفرتوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
پاکستان سعودی عرب دفاعی شراکت داری میں ترکیہ کی شمولیت متوقع؛ جنگی تجربات رکھنے والی افواج کے حامل پاکستان کا کردار کلیدی ہے، جنوبی ایشائی ایٹمی طاقت کسی بھی شراکت داری کو مضبوط دفاعی ساکھ فراہم کرتی ہے۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔