تحریک انصاف جس نے امریکی سازش اور ایبسیلیوٹلی ناٹ کا نعرہ لگا کر بیانیہ بنایا اب اپنے ہی اس نعرے کے برخلاف امریکی اور مغربی سفارتکاروں سے مدد مانگتے ہوئے سربراہ تحریک انصاف عمران خان کی جیل سے رہائی کیلئے مدد مانگ لی۔
عمران خان وہ وزیراعظم تھا جو دوسروں کی گرفتاری کا کریڈٹ لیتا تھا کہ میں نے اندر کروایا ہے، عمران خان کے دور میں اپوزیشن راہنماؤں کو کسی جرم کے بغیر گرفتار کیا گیا، عمران خان نے ہمارے خلاف نیب کو استعمال کیا، یہ عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ اب نیب قوانین میں کچھ نرمی آئی ہے۔
سیاسی پختگی رکھنے والا کوئی بھی شخص اس قدر ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ نہیں بول سکتا جس طرح عمران خان جھوٹ بولتے ہیں، عمران خان نے کہا کہ ان کے پاس سائفر موجود ہے لیکن پھر کہا کہ وہ مجھ سے کہیں کھو گیا ہے اور اب امریکہ میں ایک نیوز ویب سائٹ نے اس کو شائع کر دیا ہے۔
پاکستان کے سیاستدان اکثر پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات کو اپنے سیاسی فائدے کیلئے استعمال کرتے رہتے ہیں اور میں سمجھتی ہوں کہ عمران خان نے بھی ایسا ہی کیا، عمران خان نے سفارتی گفتگو کو اپنی سیاست چمکانے کیلئے استعمال کیا اور کہا کہ دیکھو امریکہ یہ چاہتا ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ "دی انٹر سیپٹ" نے مبینہ سائفر کا متن شائع کر دیا جس کی تصدیق سے ادارہ خود بھی انکار کر رہا ہے جبکہ یہ ڈاکومنٹ کسی نامعلوم ذریعہ سے حاصل کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ عمران خان اپنے پاس موجود سائفر کی کاپی گم ہو جانے کا اعتراف کر چکے ہیں۔
The US Supreme Court ruled that President Trump’s sweeping emergency tariffs were unlawful, curbing a signature trade strategy and opening the door to large-scale refund claims from businesses that paid the duties.
واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے باہر سِکھ کارکنوں کا مظاہرہ، پنجاب کی بھارتی قبضہ سے آزادی کیلئے ’’خالصتان ریفرنڈم‘‘ کا مطالبہ کر دیا۔ مظاہرین نے ’’بورڈ آف پیس میں خالصتان تحریک کی شمولیت‘‘ کی صورت میں 1 بلین ڈالرز تعاون کی پیشکش بھی کر دی۔
More than 357,000 educated young people in IOJK are unemployed while thousands of sanctioned government posts remain vacant. The scale of the backlog suggests a structural hiring freeze that contradicts official claims of economic progress in the region.
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔