Indian markets slipped again as weak global cues and proposed US tariffs on Russian oil buyers rattled investor confidence and heightened fears over India’s energy dependence.
بھارتی سٹاک مارکیٹ مسلسل چوتھے روز مندی کا شکار، غیر ملکی سرمایہ کے انخلا کے ساتھ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے روسی تیل خریدنے والے ممالک پر ممکنہ 500 فیصد ٹیرف کی حمایت سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا۔توانائی اور تجارتی پالیسیوں سے جڑی اس غیر یقینی صورتحال نے بھارتی معیشت اور مالی منڈیوں پر دباؤ میں نمایاں اضافہ کر دیا۔
سال 2026 کے آغاز پر پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تاریخی بلندیوں کا سلسلہ جاری، بینچ مارک KSE ہنڈرڈ انڈیکس میں 4900 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ، سٹاک ایکسچینج 183964 پوائنٹس کے ساتھ تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
سال 2026 کا شاندار آغاز، نئے سال کے دوسرے روز پاکستان سٹاک مارکیٹ میں نئی تاریخ رقم، بینچ مارک KSE ہنڈرڈ انڈیکس میں 2600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ، سٹاک ایکسچینج 179000 پوائنٹس کے ساتھ تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
سال 2025 کے آخری روز پاکستان سٹاک مارکیٹ میں نئی تاریخ رقم، بینچ مارک KSE ہنڈرڈ انڈیکس میں 760 پوائنٹس کا اضافہ، سٹاک ایکسچینج 1 لاکھ 75 ہزار 232 پوائنٹس کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
پاکستان سعودی عرب دفاعی شراکت داری میں ترکیہ کی شمولیت متوقع؛ جنگی تجربات رکھنے والی افواج کے حامل پاکستان کا کردار کلیدی ہے، جنوبی ایشائی ایٹمی طاقت کسی بھی شراکت داری کو مضبوط دفاعی ساکھ فراہم کرتی ہے۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔