Prime Minister Shehbaz Sharif and Field Marshal Asim Munir meet President Donald Trump in Washington for high-level talks on Pakistan–US relations, security, Middle East peace and investment opportunities as Trump praises Pakistan’s leadership and receives an invitation to visit Pakistan.
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات، دورۂ پاکستان کی دعوت۔ دوطرفہ تعلقات، مشرقِ وسطیٰ میں امن اور نئی سرمایہ کاری پر اہم بات چیت، شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کو امن کا علمبردار جبکہ صدر ٹرمپ نے دونوں رہنماؤں کو عظیم قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات، علاقائی اورعالمی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال۔ صدر ٹرمپ نے دونوں رہنماؤں کوعظیم قراردے دیا۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، امریکی نائب صدر اور سیکرٹری خارجہ کی بھی شرکت۔
Pakistan stands with Sikhs, not against them — Pannun calls it a future ally of Khalistan. He urges Sikh soldiers: reject Modi’s war, this fight isn’t yours.
Trump’s White House return reshapes the US political landscape, strengthening a populist, nationalist coalition with assertive policies on trade, alliances, and immigration.
پاکستان سعودی عرب دفاعی شراکت داری میں ترکیہ کی شمولیت متوقع؛ جنگی تجربات رکھنے والی افواج کے حامل پاکستان کا کردار کلیدی ہے، جنوبی ایشائی ایٹمی طاقت کسی بھی شراکت داری کو مضبوط دفاعی ساکھ فراہم کرتی ہے۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔