پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوری سیز فائر معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کی باضابطہ تصدیق قطر کی وزارتِ خارجہ نے کر دی ہے۔ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں قطر اور ترکیہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
پاکستانی سر زمین پر مقیم تمام افغانیوں کو اب اپنے وطن جانا ہوگا، اب احتجاجی مراسلات اور امن کی اپیلیں نہیں ہونگی۔ اور کابل نمائندہ وفد بھی نہیں بھیجا جائے گا۔ جہاں بھی دہشت گردی کا منبع ہو گا، اسے بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو اب وطن واپس جانا ہوگا، پچاس سال سے جاری افغان مہاجرین کی موجودگی اب ختم ہونی چاہیے۔ پاک افغان سرحد کو مکمل طور پر کنٹرول میں لایا جائے گا تاکہ غیرقانونی آمد و رفت، اسمگلنگ اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔
کابل جا کر فوٹو سیشن کروانے والوں اور طالبان حکومت کے ساتھ انگیج کرنے والوں نے ملک کی تقدیر کے ساتھ کھلواڑ کیا، پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لیے بغیر بڑے دہشتگردوں کو کیوں رہا کروایا گیا؟
انتهت الثقة في إيران بالكامل. السعودية لا تخشى المواجهة، وتحتفظ بحقها في الرد العسكري عند الضرورة. وإذا كانت طهران تعتقد أن دول الخليج لا تملك القدرة على الرد، فهي واهمة. وإيران لن تتوقف ما لم تواجه رداً قوياً وحازماً
ایران پر اعتبار ختم ہو چکا۔ سعودی عرب تصادم سے نہیں ڈرتا، ضرورت پڑنے پر فوجی جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ ایران اگر سمجھتا ہے کہ خلیجی ممالک جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو وہ غلطی پر ہے۔ ایران مضبوط مقابلہ کا سامنا کیے بغیر نہ رُکے گا۔
Joe Kent, Director of the National Counterterrorism Center, has resigned with immediate effect, stating that he cannot support the US war in Iran, arguing that Tehran posed no imminent threat, and questioning the basis on which the conflict has been pursued.
Israel says a targeted strike killed Ali Larijani, one of Iran’s most senior security figures, but Tehran had not confirmed the claim at the time of reporting. If verified, it would mark one of the biggest direct blows yet to Iran’s leadership in the current conflict.
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان سے متعلق پابندیوں کی فہرست اپڈیٹ کر دی۔ عبدالغنی برادر، سراج الدین حقانی، امیر خان متقی سمیت 22 اہم ناموں سے متعلق معلومات میں ترامیم کی گئیں۔ یہ اقدام واضح کرتا ہے کہ عالمی برادری نے طالبان کا ماضی فراموش نہیں کیا۔