شہداء اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، فساد فی الارض برپا کرنے والوں پر زمین تنگ رہے گی، فتنہ الخوارج کا خاتمہ کریں گے، دہشتگردوں کو جہاں پائیں گے سرکوبی کریں گے، فوج اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے والے عناصر کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جناح میڈیکل کمپلیکس خطہ میں شاندار سینٹر ہو گا، یہ پورے ملک کیلئے نواز شریف کی مخلوط حکومت کا تحفہ ہے، غریب عوام کی صحت و تعلیم پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، ایک منصف نے سازش کر کے پی کے ایل آئی کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔
پاکستان فلسطینیوں پر جاری مظالم اور نسل کشی کی سخت مذمت کرتا ہے، جب تک فلسطینیوں کو انکا حق، آزادی اور سرزمین نہیں مل جاتی دنیا میں امن قائم نہٰں ہو سکتا، پاکستان مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی بھی سخت مذمت کرتا ہے۔
مستقبل کا راستہ چن لیا ہے، وعدہ کرتا ہوں موجودہ آئی ایم ایف پروگرام آخری ہو گا، ایسے اداروں کا خاتمہ کیا جائے گا جو پاکستان پر بوجھ بن چکے، ماضی میں جب بھی ترقی کا سفر شروع ہوا کوئی حادثہ ہو گیا۔
پاکستان کی چھ اکائیاں ہیں جن میں سے کشمیر، بلوچستان اور گلگت بلتستان کا صبر ختم ہو چکا جبکہ خیبرپختونخوا کا صبر ختم ہونے والا ہے، کیا صرف پنجاب اور سندھ پاکستان کی شکل ہوں گے؟ ایک شخص نے ریاست کا مستقبل داؤ پر لگا رکھا ہے۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔