آئی ایس پی آر کیمطابق، بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج نے بنوں میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر خودکش بمبار بروقت روک کر بڑی تباہی ٹال دی گئی؛ فائرنگ میں 5 خوارج ہلاک جبکہ بارودی گاڑی ٹکرانے سے لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ شہید ہو گئے۔ خوارج افغان سرزمین سے دہشت گردی جاری رکھے ہوئے ہیں اور ماہِ رمضان کی حرمت پامال کر رہے ہیں، تاہم پاکستان بغیر کسی رعایت کے ان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے انہیں انجام تک پہنچائے گا۔
Pakistan’s top military commander Field Marshal Asim Munir says declarations of jihad belong to the state, alleges attacks are enabled from across the border, and urges Afghanistan to choose between Pakistan and “Fitna al-Khawarij”.
شہداء کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔ ریاست کے خلاف مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث دہشتگردوں کو قیمت چکانا ہو گی۔ دہشتگردی کو اس کے سہولت کاروں سمیت شکست دیں گے۔ پاکستان میں دیرپا اور پائیدار امن کا قیام یقینی بنائیں گے، آرمی چیف جنرل عاصم منیر۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای یورپ میں لگژری پراپرٹیز و فائیو سٹار ہوٹلز سمیت وسیع سرمایہ کاری سلطنت رکھتے ہیں جو لندن سے جرمنی و سپین تک ہے۔ مالی طاقت خلیج فارس کی شپنگ سے سوئس بینک اکاؤنٹس و برطانوی پراپرٹیز تک 138 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔