علی امین گنڈا پور گاڑی کی ڈگی میں بیٹھ کر فرار ہو گئے اور خیبرپختونخوا کی ناک کٹوا دی، پی ٹی آئی کا ایجنڈا ملک دشمنی کا ہے، یہ لوگ اپنے جلوسوں میں دہشتگردوں کو ساتھ لاتے ہیں، خیبرپختونخوا میں صرف کرپشن ہو رہی ہے۔
خیبرپختونخوا میں ہمارا مینڈیٹ چوری کر کے پی ٹی آئی کو دیا گیا، علی امین گنڈا پور کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ اس کے کسی بیان کا جواب دوں، یہ صوبوں کے درمیان جنگ کی کیفیت بنانا چاہتا ہے۔ آئینی عدالت کا قیام میثاقِ جمہوریت کا حصہ ہے، اسرائیل کے خلاف اسلامی ممالک کو مشترکہ دفاعی نظام لانا ہو گا۔
مخالفین کے پاس گالم گلوچ کے سوا کچھ نہیں، ان کی توجہ دوسروں کی عزتیں اچھالنے پر ہے، دوسرے صوبوں میں جلسہ اور جلاؤ گھیراؤ آسان مگر اپنا کام کرنا مشکل ہے، اگر پنجاب میں آ کر کوئی قانون توڑے گا تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
عمران خان کو 2 ہفتوں میں رہا نہ کیا تو خدا کی قسم ہم خود رہا کریں گے، کوئی رکاوٹ بنا تو ہتھکڑیاں لگا کر گھسیٹوں گا، فیض حمید کیا ہمیں وراثت یا جہیز میں ملا؟ تمہارا جنرل تھا، اپنا ادارہ ٹھیک کرو ورنہ ہم ٹھیک کریں گے۔
ہم جب بھی نکلتے پیں سر پر کفن پہن کر نکلتے ہیں، عمران خان کے صبر اور ظرف کی وجہ سے یہ لوگ ایوانوں میں بیٹھے ہیں ورنہ ہم ان کا وہ حال کرتے کہ ان کی نسلیں یاد رکھتیں، اب اسلام آباد میں 8 ستمبر کو جلسہ ہو گا۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔