سابق وزیراعظم عمران خان کی فرنٹ پرسن فرح گوگی کی میگا کرپشن کے متعلق ہوشربا انکشافات کا سلسلہ جاری ہے، فرح گوگی کے ظاہری اور غیر ظاہری اثاثوں میں 2017 سے 2020 تک 4 ہزار 520 ملین روپے کا حیرت انگیز اضافہ ہوا، ظاہری اثاثوں میں 420 فیصد جبکہ غیر ظاہری اثاثوں میں 15 ہزار 300 فیصد کا ہوشربا اضافہ ہوا۔
بشریٰ بی بی نے ہی عمران خان کو القادر ٹرسٹ کے نام سے ایک غیر سرکاری فلاحی تنظیم بنانے کیلئے راغب کیا جس کے تحت اسلام آباد سے باہر مبینہ طور پر روحانیت اور اسلامی تعلیمات سے وابستہ ایک یونیورسٹی چلائی جا رہی ہے جبکہ یہی ٹرسٹ عمران خان اور بشریٰ کے خلاف کرپشن کے الزامات کا حصہ ہے۔
ملک ریاض سے حاصل کی گئی زمین پر القادر یونیورسٹی بنائی کیونکہ اس یونیورسٹی کے ذریعہ وہ پاکستان کو مستقبل کیلئے سیرت النبی پر عمل کرنے والی صادق و امین قیادت فراہم کرنا چاہتے ہیں۔
عمران خان کے دور میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے 190 ملین پاونڈز رہکور کر کے پاکستان کو دیئے تو عمران خان نے بطور وزیراعظم وہ رقم پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کروانے کی بجائے اسی بزنس ٹائیکون کی جیب میں ڈال دی۔
بھارتی کرنسی بدترین گراوٹ کی شکار ہے، بھارتی روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ بھارت کی جانب سے معاشی نمو کے دعووں کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کاری کے مسلسل انخلاء اور کرنسی میں مزید گراوٹ کے خدشات نے مارکیٹ کو بےچین کر رکھا ہے۔
اسرائیل حماس جنگ میں 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے؛ اسرائیلی افواج (آئی ڈی ایف) نے حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار تسلیم کر لیے جبکہ اِن میں ملبہ تلے دبے لاپتہ افراد اور بھوک، علاج کی کمی اور جنگی بیماریوں سے مرنے والے افراد شامل نہیں ہیں۔
پاکستان سعودی عرب دفاعی شراکت داری میں ترکیہ کی شمولیت متوقع؛ جنگی تجربات رکھنے والی افواج کے حامل پاکستان کا کردار کلیدی ہے، جنوبی ایشائی ایٹمی طاقت کسی بھی شراکت داری کو مضبوط دفاعی ساکھ فراہم کرتی ہے۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور