ملک پر ایسا کھلنڈرا مسلط کیا گیا جس نے سب سے بڑا 190 ملین پاؤنڈز کا ڈاکہ ڈالا۔ ہمیں چور چور کہنے والے خود سب سے بڑے چور ثابت ہوئے۔ جو کہتا تھا تمہیں گریبان سے پکڑ کر جیل میں ڈالوں گا آج وہ خود کہاں ہے۔
دنیا میں پہلی بار ایسا ہوا کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر وزیراعظم کو عہدے سے فارغ کر دیا گیا، مجھے اور مریم کو جیل میں رکھ کر الیکشن چوری کیا گیا، پاکستان کو اِس حال تک پہنچانے والوں نے پاکستان کے ساتھ ظلم کیا۔
بھارت نے ہماری 1990 والی معاشی پالیسی اپنا کر ترقی حاصل کی، ہماری وہ پالیسی یہاں جاری رہتی تو آج پاکستان ترقی کی رفتار میں کہیں آگے ہوتا، جب بات پاکستان کی ہو تو ہم فیصلے کرتے ہوئے ذاتی مفادات اور نقصانات نہیں دیکھتے۔
نواز شریف کو وزارت عظمی سے 99 میں ہٹاکر جیل بھیجنا ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ تھا یا2002، 2008 کا الیکشن لڑنے نہ دینا ”لیول پلیئنگ فیلڈ۔“ 2017 میں وزارت عظمی سے بےدخل کرکے تاحیات نااہل کرنا بیٹی سمیت جیل بھیجنا ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ تھا؟
نواز شریف پاکستان کے زخموں پر مرہم ہیں، 21 اکتوبر کو کسی فردِ واحد کی واپسی نہیں بلکہ ملک میں امید کی واپسی ہے، ترقی و خوشحالی کی واپسی ہے، امن اور روزگار کی واپسی ہے، سستی بجلی اور سستی گیس کی واپسی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔