القادر ٹرسٹ کیس میں چوری ثابت ہوئی، عمران خان پہلا وزیراعظم ہے جو چوری کرتے اور رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، یہ شخص آج اسی اڈیالہ جیل میں ہے جہاں نواز شریف اور میں قید تھے، نواز شریف نے 45 سال پاکستان کی خدمت کی لیکن کبھی ایک روپے کی کرپشن نہیں کی۔
The backlash from PTI circles over Maryam Nawaz’s diplomatic handshake with the UAE President lays bare the deep-seated misogyny overshadowing her leadership. This fixation on protocol exposes a calculated attempt to undermine her transformative initiatives through gendered criticism.
عمران خان نے 2014 میں سول نافرمانی کا اعلان کرتے ہوئے عوام کے سامنے بجلی کا بل جلایا اور بجلی کے بل نہ دینے کا کہا، جبکہ ان کے اپنے بنی گالہ گھر میں سولر پینلز لگے ہوئے تھے۔ وہ سیاسی فائدے کے لیے خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال بنا کر استعمال کرتے ہیں۔ دوسروں کی بیٹیوں اور بیگمات پر اعتراض کرنیوالوں کو اپنی باری آنے پر موروثیت پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔
بندوق، غلیل، پتھر اور کیلوں والے ڈنڈے پاکستان کی پہچان نہیں بلکہ پاکستان کی پہچان طلباء ہیں۔ مستقبل کے معمار یونیورسٹیز میں اچھے لگتے ہیں ڈی چوک پر نہیں۔ عوام کا پیسہ عوام کی امانت ہے، یہ پیسہ پہلی حکومتوں کے پاس بھی تھا مگر آپ تک نہ پہنچا۔
Clearing waste from streets is vital, but eliminating political chaos from Punjab and Pakistan is equally crucial. The KPK government is misusing public funds to orchestrate attacks. Foreign-trained militants are being used incite unrest and destabilisation in the country.
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔