صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے 26ویں آئینی ترمیم پر دستخط کر دیئے، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، سینیٹ اور قومی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم بطور قانون نافذ العمل ہو گئی۔
آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں جس کا دارالخلافہ القدس ہو، غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں، اسرائیل کو نسل کشی اور جنگی جرائم کا مرتکب ٹھہرایا جائے، فلسطین کی صورتحال پر او آئی سی کا ایمرجنسی سمٹ بلایا جائے۔
کل ساری رات کے پی ہاؤس اسلام آباد میں تھا، اسلام آباد پولیس نے چار چھاپے مارے مگر میں نہ ملا، بُرے وقت میں چھوڑنے والا بزدل ہے، عمران خان قوم کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہم مرتے دم تک جنگ لڑتے رہیں گے، گرفتار کرنا ہے تو کرلو۔
خیبرپختونخوا میں ہمارا مینڈیٹ چوری کر کے پی ٹی آئی کو دیا گیا، علی امین گنڈا پور کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ اس کے کسی بیان کا جواب دوں، یہ صوبوں کے درمیان جنگ کی کیفیت بنانا چاہتا ہے۔ آئینی عدالت کا قیام میثاقِ جمہوریت کا حصہ ہے، اسرائیل کے خلاف اسلامی ممالک کو مشترکہ دفاعی نظام لانا ہو گا۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔