مریم نواز شریف کے متحدہ عرب اماراتی صدر کیساتھ سفارتی مصافحے پر بےجا تنقید نے صنفی تعصب کو بےنقاب کر دیا۔ یہ تنقید مریم نواز کے انقلابی اقدامات اور اصلاحاتی پالیسیز پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ مریم نواز کی قیادت صنفی تعصب کے خلاف مزاحمت کی علامت بھی ہے۔
The backlash from PTI circles over Maryam Nawaz’s diplomatic handshake with the UAE President lays bare the deep-seated misogyny overshadowing her leadership. This fixation on protocol exposes a calculated attempt to undermine her transformative initiatives through gendered criticism.
میں عوامی خدمت کیلئے آلو پیاز ٹماٹر کی قیمتیں چیک کرنے اور کم کرنے آئی ہوں، جتنے کام میں 100 دنوں میں کر آئی ہوں مخالفین 300 برس میں نہیں کر سکتے، اپوزیشن پر ترس آتا ہے، انکے پاس گالم گلوچ و نعروں کے سوا کچھ نہیں۔
ادارے ایگزیکٹو میں مداخلت کر کے عوام کی ترقی و خوشحالی میں رکاوٹ بن رہے ہیں، عدالتوں کا کام ذاتی پسندیدگی یا ناپسندیدگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ عدل و انصاف پر فیصلے کرنا ہوتا ہے، یہاں پر اپنی مرضی کی توہینِ عدالت لگائی جاتی ہے، راہنما مسلم لیگ (ن) سلمیٰ بٹ۔
مریم نواز کے بطور وزیرِ اعلیٰ پنجاب پہلے 100 دن ترقی و خوشحالی کے ایک انقلاب کا آغاز ہیں جن میں نواز شریف آئی ٹی سٹی، کلینکس آن وہیل، فیلڈ ہاسپٹلز، فری میڈیسن ڈیلوری، نیور اگین ایپ، ائیر ایمبولینس، سستی روٹی و دیگر منصوبے شامل ہیں۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.