نواز شریف کی حالیہ وطن واپسی ماضی کی نسبت زیادہ طاقتور ہے، نواز شریف ایک بار پھر وزیراعظم منتخب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، نواز شریف تین دہائیوں سے ملکی سیاست پر غالب ہیں اور سیاسی منظر نامہ کو پلٹنے میں بادشاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
نواز شریف اور عمران خان پرانی سیاست کرنا چاہتے ہیں، میں مسلم لیگ (ن) اور تحریکِ انصاف میں سے کسی کا ساتھ نہیں دینا چاہتا، میاں صاحب کے کردار سے سخت مایوس ہوں، اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کو روکنے کیلئے جدوجہد کرنا پڑے گی۔
خیبرپختونخوا کے عوام ایک جھوٹے شخص کے جھانسے میں آ گئے تھے، وہ شخص نیا پاکستان کا نعرہ لگا کر مکر و فریب کی سیاست کر رہا تھا، اس نے پاکستان کو تباہ و برباد کر دیا، امید ہے خیبرپختونخوا کے عوام دوبارہ تبدیلی کے جال میں نہیں پھنسیں گے۔
ہم نے قسم کھائی ہے کہ ملک و قوم کی خدمت میں سب کچھ کر گزرنا ہے، میرے ساتھ جو ظلم ہوا میں وہ برداشت کر رہا ہوں لیکن جو ظلم عوام کے ساتھ کیا گیا وہ میں برداشت نہیں کر سکتا، ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، ترقی و خوشحالی کیلئے بہت محنت کرنا پڑے گی۔
بلاول بھٹو عمران خان ثانی بننے میں مصروفِ عمل ہیں، ان کی تقاریر میں عمران خان کے روایتی انداز کی جھلک دکھائی دیتی ہے، وہ برق رفتاری سے تُو تَڑاق والی زبان بولتے نظر آ رہے ہیں، عمران خان کی پھیلائی پولرائزیشن کے باعث منقسم معاشرہ مزید نفرتوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
The Guardian was entitled to publish Mahrang Baloch’s testimony. But readers should read it for what it is: a partisan account, sharply written and emotionally potent, not a settled version of events.
Pakistan says the United States and Iran have expressed confidence in its role as a potential facilitator for talks, with Islamabad saying it would be honoured to host negotiations in the coming days.
امریکا و ایران دونوں نے ممکنہ مذاکرات میں سہولت کاری کیلئے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ پاکستان آئندہ چند روز میں ممکنہ مذاکرات میں میزبانی و سہولتکاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراءِ خارجہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے خطہ میں امن کیلئے پاکستانی کوششوں کی بھرپور حمایت اور تائید کی۔
امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان خطہ کے توازن پر اثرانداز ہوتے ہوئے واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
Pakistan is preparing to host the foreign ministers of Saudi Arabia, Turkey and Egypt for bilateral meetings and a four-country diplomatic session in Islamabad that is expected to conclude with a joint communiqué and possibly a meeting with Prime Minister Shehbaz Sharif.