Columns

News

مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی میں 108 ارکان کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن گئی

مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت، مسلم لیگ (ن) کو 24 جبکہ پیپلز پارٹی کو 14 مخصوص و اقلیتی نشستیں الاٹ، مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی مجموعی تعداد 108 جبکہ پیپلز پارٹی کے ارکان کی مجموعی تعداد 68 ہو گئی، سنی اتحاد کونسل کے 81 ارکان ہیں۔

پنجاب کی نامزد وزیراعلی مریم نواز نے اسمبلی رکنیت کا حلف اٹھا لیا

پنجاب کی نامزد خاتون وزیراعلی مریم نواز نے پنجاب اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھا لیا ہے۔ مریم نواز کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتی ہیں کہ اب پنجاب میں خدمت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے غلط بیانی کا اعتراف کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگ لی

میں نے ایک سیاسی جماعت کے بہکانے پر غلط بیان دیا تھا جو صریحاً غیر ذمہ دارانہ عمل تھا، اس منصوبے کو ایک سیاسی جماعت کی بھرپور حمایت حاصل ہے، چیف جسٹس کا نام جان بوجھ کر شامل کیا گیا، قوم سے معافی چاہتا ہوں۔

حضرت محمدﷺ اللّٰه کے آخری نبی ہیں اور انکو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

نبی آخر الزماں حضرت محمدﷺ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے، آپﷺ صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ تمام انسانوں سمیت اللّٰه کی تمام مخلوقات کیلئے بھی رحمت ہیں، آپﷺ کے بعد اب کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا اور اسکے بعد بات ختم ہوجاتی ہے۔

جج کے مستعفی ہونے سے اس کے خلاف جاری کارروائی ختم نہیں ہو گی، سپریم کورٹ

کسی جج کے خلاف ایک بار کارروائی شروع ہو جائے تو پھر اس جج کے مستعفی ہونے سے کارروائی ختم نہیں ہو گی، ریٹائرڈ ججز کے خلاف زیرِ التواء شکایات پر کارروائی کرنا یا نہ کرنا سپریم جوڈیشل کونسل کی صوابدید ہے، سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ سنا دیا۔
Newsroomہم نے قسم کھائی ہے کہ پاکستان کی خدمت کیلئے سب کچھ...

ہم نے قسم کھائی ہے کہ پاکستان کی خدمت کیلئے سب کچھ کر گزرنا ہے، نواز شریف

ہم نے قسم کھائی ہے کہ ملک و قوم کی خدمت میں سب کچھ کر گزرنا ہے، میرے ساتھ جو ظلم ہوا میں وہ برداشت کر رہا ہوں لیکن جو ظلم عوام کے ساتھ کیا گیا وہ میں برداشت نہیں کر سکتا، ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، ترقی و خوشحالی کیلئے بہت محنت کرنا پڑے گی۔

spot_img

سیالکوٹ (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سپریم لیڈر میاں نواز شریف نے انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے ساتھ جو ظلم ہوا میں وہ برداشت کر رہا ہوں لیکن جو ظلم پاکستان کاور پاکستان کے عوام کے ساتھ کیا گیا وہ میں برداشت نہیں کر سکتا، مجھ سے دشمنی میں پاکستان اور اس کے عوام کو نقصان پہنچایا گیا۔

میاں نواز شریف نے اپنے خطاب کے آغاز میں جلسہ کے شرکاء کا جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا اور کارکنان کی جانب سے “میاں صاحب آئی لو یو” کے نعروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف بھی آپ سے بہت زیادہ پیار کرتا ہے، نواز شریف سیالکوٹ کے عوام سے بہت محبت کرتا ہے، میاں نواز شریف نے خواجہ آصف سمیت سیالکوٹ اور دیگر شہروں کے مسلم لیگی راہنماؤں کا نام لے کر ان کی خدمات اور جماعت کے ساتھ وفا کو سراہا۔

قائد مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ باوفا اور بہادر لوگوں کا شہر ہے، سیالکوٹ کا نام پورے برصغیر میں گونجتا ہے، سب سے بڑا باوفا شخص خواجہ آصف ہے جو میرے ساتھ کھڑا ہے، خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارا 34 سال کا سیاسی تعلق ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارا تعلق 55 سالوں کا ہے، میں اور خواجہ آصف گورنمنٹ کالج لاہور میں ایک ساتھ پڑھتے تھے اور ایک ساتھ گریجویشن مکمل کی، مجھے خواجہ آصف کے والد محترم کے ساتھ پر بھی فخر ہے جنہوں نے میری پولیٹیکل ٹریننگ کی، وہ ایک بہت اچھے انسان اور بہت اچھے سیاستدان تھے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں جب وطن واپس آیا تو میں نے خواجہ صاحب سے کہا کہ میں نے سیالکوٹ آنا ہے کیونکہ مجھے سیالکوٹ سے بڑا پیار ہے، ہم نے یہاں موٹروے بنائی لیکن ہم اس کا افتتاح نہ کر سکے اور نہ وہی وہ دیگر موٹرویز کے معیار کے برابر ہے، یہ ٹھیک نہیں بنائی گئی، ہم انشاءاللّٰه سیالکوٹ کیلئے نئی موٹروے بنائیں گے، ہم نے قسم کھائی ہے کہ ہم نے اپنے عوام کی خدمت کیلئے سب کچھ کر گزرنا ہے۔

میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم ایسا پروگرام بنائیں گے کہ جن نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈگریاں ہیں انہیں آسان قرضہ فراہم کیا جائے گا جس سے وہ اپنا باعزت کاروبار شروع کر سکیں گے، ہم انشاءاللّٰه آپ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی میں وسائل مہیا کریں گے، ہم بچوں اور بچیوں سب کو بلاامتیاز سہولیات فراہم کریں گے، ہم بہت پیچھے جا چکے ہیں، نوجوانوں کے ہاتھ میں باعزت روزگار ہونا چاہیے تھا، اگر ہمارا راستہ نہ روکا جاتا تو آج کوئی بےروزگار نہ ہوتا۔

مسلم لیگ (ن) کے سپریم لیڈر نے کہا کہ نواز شریف روٹی چار روہے پر چھوڑ کر گیا تھا جو آج 25 روپے کی ہو چکی ہے، پیٹرول کا ریٹ 65 روپے فی لیٹر تھا جو آج بلندیوں کو چھو رہا ہے، پچاس روپے کلو والی چینی آج کہاں پہنچ چکی ہے، آج بجلی و گیس غریب کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں، جنہوں نے ملک کے ساتھ اتنا بڑا ظلم کیا ہے ان سے سوال پوچھنا چاہیے، آج آپ اپنا گھر نہیں بنا سکتے، بچیوں کی شادی نہیں کر سکتے، غریب شخص کیلئے دو وقت کی باعزت روٹی مشکل ہو چکی ہے۔

قائد مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ میرے ساتھ جو ظلم ہوا وہ میں برداشت کر رہا ہوں لیکن جو ظلم پاکستان کے عوام کے ساتھ کیا گیا وہ میں برداشت نہیں کر سکتا، ہم بہت پیچھے جا چکے گئے ہیں، ہمیں دوبارہ 2017 والے مقام تک پہنچنے کیلئے بہت زیادہ محنت کرنا پڑے گی اور اس کیلئے ہمیں عوام کا بھرپور ساتھ چاہیے، آپ سب کو ہمارے ساتھ محنت کرنا پڑے گی۔

Read more

میاں نواز شریف! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

Celebrity sufferings

Reham Khan details her explosive marriage with Imran Khan and the challenges she endured during this difficult time.

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
spot_img
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
error: