میری جنرل باجوہ سے دو ملاقاتیں ہوئیں جن میں جنرل باجوہ نے کہا حکومتیں توڑ دو میں الیکشن کروا دونگا۔ جنرل باجوہ نے ہمیں لال بتی کے پیچھے لگا دیا اور ہم نے اس کی بات پر یقین کر لیا۔
جنرل فیض حمید جوڈی جی سی تھے میرے پاس آئے اورمجھ سے پوچھا کہ اگر میاں نواز شریف اور انکی بیٹی مریم نواز کا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ آپکے پاس آئے گا تو آپ کیا کرینگے میں نے کہا ابھی تو وہاں فیصلہ نہیں ہوا تو جنرل فیض نے کہا کہ اسے چھوڑیں سزا تو ہونی ہی ہے ہم آپ سے ملکی مفاد میں فیصلہ چاہتے ہیں۔
پاکستان کی بری حالت کا ذمہ دار عمران خان اور اسکے ساتھ پورا گینگ ہے جس نے پاکستان کو نوچ نوچ کر کھایا ہے۔ اس گینگ کا سرغنہ عمران خان ہے، اس گینگ میں پاکستان کا ہر کرپٹ ترین شخص موجود ہے چاہے وہ ثاقب نثار ہو جنرل فیض ہو جسٹس مظاہر نقوی ہو وہ کوئی بھی کرپٹ ترین شخص ہو وہ اس گینگ کا حصہ نکلے گا۔
سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے شاہی محل میں ملاقات ہوئی جس میں مسلم لیگ نواز کی چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف بھی شریک تھییں۔
مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے چیف جسٹس عمرعطا بندیال کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے انہوں نے کہا کہ عدالتوں کا کام قوموں کوبحرانوں سے سے نکالنا ہوتا ہے بحرانوں میں دھکیلنا نہیں ہوتا۔
Zulfikar Bukhari's remarks to Reuters, describing a freed Imran Khan as unwilling to confront army chief Asim Munir, don't just shift PTI's tone. Coming from one of Khan's closest aides, they quietly kill the "dut kar khara hai kaptaan" promise that has held the party's base together for two years.
The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔