شہباز شریف ہمارے ایم این ایز کو اغواء کرنے کیلئے آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کو استعمال کر رہے ہیں، آج ہمارے ایم این اے امیر سلطان کو اغواء کیا گیا ہے، انٹیلیجنس ایجنسیز کے سربراہوں کو چاہیے کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت سے باز رہیں۔
ہمیں پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیز بالخصوص آئی ایس آئی کا بجٹ بتایا جائے، وہ بجٹ کہاں لگایا جا رہا ہے؟ ملک کی معیشت بکھر چکی ہے، چینی راہنما نے جو کچھ کہا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ ہمیں اپنا گھر درست کرنے کا کہا جا رہا ہے۔
عمران خان ڈِگّی میں چھپ کر گیا اور جنرل اعجاز امجد کے گھر پر جنرل باجوہ کے گِٹّوں کو ہاتھ لگائے، اب یہ کسی اور کے گِٹّے پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ 9 مئی اور آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط کی معافی مانگیں، عمر ایوب ماضی میں چمچہ گیری کرتا رہا ہے۔
تحریک انصاف کے ساتھ رابطے بڑھانا اور تلخیاں کم کرنا چاہتے ہیں، آئینِ پاکستان کی کوئی حیثیت نہیں رہی، پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو چکی جبکہ جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے، بات چیت کیلئے اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔