Pakistan’s Field Marshal Asim Munir warned that there is no room for war in a nuclear environment, asserting that Pakistan will respond decisively to any provocation and that India will bear full responsibility for any escalation. He reaffirmed Pakistan’s unwavering stance on the establishment of an independent and sovereign Palestinian state with Al-Quds Al-Sharif as its capital.
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھارت کو خبردار کیا کہ ایٹمی ماحول میں جنگ کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان کسی دھمکی سے خوفزدہ نہیں ہوگا اور کسی بھی اشتعال انگیزی کی صورت میں بلا تردد اور غیر متناسب ردِعمل دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کشیدگی بڑھی تو اس کے تباہ کن اثرات پورے خطے پر پڑیں گے اور ان نتائج کی ذمہ داری براہِ راست بھارت پر عائد ہوگی۔
ISPR says that ahead of the Bihar and West Bengal elections, India’s military leadership is recycling “Bollywood-style, fabricated scripts,” a posture it calls irresponsible and dangerous for South Asian peace and stability. Pakistan, it adds, has the capability to deliver an immediate and forceful response to any act of aggression.
بھارتی عسکری قیادت بہار اور مغربی بنگال انتخابات سے پہلے بالی وڈ طرز کے من گھڑت اسکرپٹس دہرا رہی ہے۔ یہ غیر ذمہ دارانہ پروپیگنڈا جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ہے اور پاکستان ہر جارحیت کا فوری اور بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Critics insist that Pakistan’s sympathy for Gaza is performative. They are wrong. It is historical, ethical, and intensely practical. War does not stop at borders. It migrates into prices, into power cuts, into classrooms, into the psychology of a young man who has seen too many funerals and too few pay cheques.
At a moment when Asia has been pulled towards confrontation and uncertainty, Ishaq Dar has helped place Pakistan at the centre of the diplomatic effort for peace. In the past month, his steady, coalition-building approach has turned Islamabad into a credible channel for dialogue, resulting in the Islamabad Accords.
امریکا ایران موجودہ مذاکرات میں پاکستان واحد مواصلاتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے فوری جنگ بندی کیلئے دو مراحل پر مشتمل فریم ورک تیار کر لیا جو فریقین کے سامنے پیش کیا جا چکا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر، سٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے میں رہے۔
پاکستان، ترکیہ اور مصر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیلئے ڈیڈ لائن میں توسیع اور فریقین کے درمیان براہِ راست ملاقات کی راہ ہموار کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ امریکی صدر نے منگل تک معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں دھمکی دی ہے کہ وہ ایران کے پاور پلانٹس اور پُلوں کو اڑا دیں گے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔