Speaking to religious scholars in Islamabad, Prime Minister Shehbaz Sharif said Pakistan will not progress through “magic” or shortcuts but through hard work, unity and respect for the armed forces. He hailed the army’s performance against India, urged clerics to fight sectarianism and argued that tough decisions by political and military leaders have helped pull the economy back from the edge of default.
پاکستان نہ جادو ٹونے سے آگے بڑھ سکتا ہے، نہ انتشار اور فرقہ واریت کے سہارے۔ اس کے لیے سخت محنت اور قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔ بھارت کے خلاف معرکۂ حق میں افواجِ پاکستان کی جرات مندانہ فتح نہ صرف پوری قوم بلکہ ہمارے دوست اور برادر ممالک کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔ فوج کے خلاف ہونے والے ہر پراپیگنڈے کا مؤثر جواب دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
Pakistan’s new Chief of Defence Forces, Field Marshal Asim Munir, has tied the future of relations with Kabul to the fate of the TTP, warning Afghanistan’s Taliban rulers that they must choose between partnership with Islamabad or continued tolerance of Pakistani Taliban networks on Afghan soil, as a powerful new tri service command comes online in Rawalpindi.
ایک ذہنی مریض اپنی ذات کے خمار میں مبتلا ہو کر ریاست کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ فوج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی ہر کوشش ناکام بنے گی کیونکہ ایسا بیانیہ صرف دشمن کے ہاتھ مضبوط کرتا ہے۔ جھوٹ، فریب اور پروپیگنڈے کا کاروبار اب مزید نہیں چلے گا۔
معرکہِ حق میں افواجِ پاکستان نے مُلک کا عالمی وقار بڑھایا، ہماری طاقت قومی وحدت ہے۔ پاکستان آرمی کیلئے ملکی سالمیت، سیکیورٹی اور ہر پاکستانی کا تحفظ اوّلین ترجیح ہے۔ پاکستان اپنا اصل مقام ضرور حاصل کرے گا، دشمن کے عزائم کا ناکام بنائیں گے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔