Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
غزہ سے متعلق انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں شمولیت پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا، فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔ تمام فیصلے پاکستان کے عالمی، سفارتی مفادات اور عوامی امنگوں کے مطابق ہونگے۔ پاکستان فلسطینی عوام کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھائے گا اور نہ ہی کسی ایسی مہم کا حصہ بنے گا جس کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا ہو۔
واشنگٹن میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بھارتی دوغلی پالیسیوں، مقبوضہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں، اور پاک امریکہ تعلقات میں نئی پیش رفت پر دو ٹوک مؤقف۔ پاکستان ہر بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا، بیرون ملک پاکستانی "برین گین" ہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، امریکہ کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدہ بھاری سرمایہ کاری کا باعث بنے گا۔
بھارت ’’معرکہِ حق‘‘ میں شکست کے بعد اپنی مذموم سازشوں کیلئے پراکسی وار بڑھا رہا ہے، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان بھارت کی ہائبرڈ وار کے مہرے ہیں، پاک فوج ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے ہر دم تیار ہے۔
بھارت کے خلاف پاکستان نے کوئی بیرونی مدد حاصل نہیں کی، اپنے وسائل اور صلاحیتوں پر انحصار کیا۔ ہر فیصلہ، ردعمل اور اقدام ہماری داخلی صلاحیت پر مبنی تھا۔ مستقبل میں تنازعات صرف کشمیر جیسے علاقوں تک محدود نہ رہیں گے۔
اسرائیل حماس جنگ میں 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے؛ اسرائیلی افواج (آئی ڈی ایف) نے حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار تسلیم کر لیے جبکہ اِن میں ملبہ تلے دبے لاپتہ افراد اور بھوک، علاج کی کمی اور جنگی بیماریوں سے مرنے والے افراد شامل نہیں ہیں۔
پاکستان سعودی عرب دفاعی شراکت داری میں ترکیہ کی شمولیت متوقع؛ جنگی تجربات رکھنے والی افواج کے حامل پاکستان کا کردار کلیدی ہے، جنوبی ایشائی ایٹمی طاقت کسی بھی شراکت داری کو مضبوط دفاعی ساکھ فراہم کرتی ہے۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.