پاکستان گزشتہ دو سالوں میں ایک معاشی معجزہ کر چکا ہے، ملکی معیشت کو اب کوئی خطرہ لاحق نہیں، افراطِ زر 40 فیصد سے صفر پر آ چکی ہے، بھارت کے ساتھ حالیہ مسلح کشیدگی بھی پاکستان کو معاشی طور پر پٹری سے نہیں اتار سکی۔
پاکستان پہلی بار چینی کرنسی یوان میں پانڈا بانڈز کاری کریگا جس سے ماحولیاتی منصوبوں کو فنڈنگ کی جائیگی۔ صنعتوں کی بحالی کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی بھی متوقع ہے۔
قومی سلامتی کا معاشی سیکیورٹی سے براہِ راست تعلق ہے۔ اگر ہم معاشی طور پر مضبوط ہوں گے تو ہماری نیشنل سیکیورٹی بہتر ہو جائے گی۔ ملکی استحکام کو تباہ کرنے اور انتشار پھیلانے کیلئے دارالحکومت پر چڑھائی کی گئی۔ سٹاک ایکسچینج میں ایک لاکھ پوائنٹس پر سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔
پاکستانی برآمدات میں نمایاں اضافے کے ساتھ، آئی ٹی برآمدات مالی سال 2023-24 کے دوران 24 فیصد بڑھ کر 3.2 بلین ڈالر کی تاریخی سطح تک پہنچ گئی ہیں۔ آئندہ سالوں کے لیے طے شدہ اہداف کے ساتھ، پاکستان کا آئی ٹی شعبہ عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرتے ہوئے ملکی اقتصادی استحکام اور ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.
Prime Minister Shehbaz Sharif says Pakistan has received Iran’s response, signalling that Islamabad’s mediation channel remains active as regional diplomacy enters a sensitive phase.
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث عوام سراپا احتجاج، وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا۔ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔