سعودی عرب پاکستان کا مُرَبّی دوست اور بھائی ہے، اس کے خلاف زہر آلودہ بیان پاکستان سے دشمنی اور ناقابلِ معافی جرم ہے۔ جو ہاتھ پاکستان سعودی عرب دوستی میں رکاوٹ بنے گا اسے توڑ دیں گے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی مالی، سفارتی اور سیاسی حمایت کی، وزیراعظم شہباز شریف۔
Claims made by Imran Khan's wife that Saudi Arabia conspired to topple Imran Khan’s government border on the ridiculous, painting the Kingdom—Pakistan’s most enduring ally—as an antagonist in the PTI’s melodrama.
جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے، جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ میں خانہ کعبہ جا کر یہ بات کرنے کو تیار ہوں کہ بشریٰ بی بی نے جھوٹ بولا ہے۔سینیئر صحافی کا دعویٰ۔
Former Pakistan COAS General Qamar Bajwa has dismissed Bushra Bibi’s claims of Saudi involvement in the alleged ousting of Imran Khan’s government following his visit to Madinah, calling them baseless.
الرئيس السابق للجيش الباكستاني، الجنرال قمر جاويد باجوه، نفى مزاعم زوجة عمران خان، بشریٰ بي بي، بشأن تورط العائلة المالكة السعودية في الإطاحة بحكومة عمران خان بعد زيارته للمدينة المنورة، ووصفها بأنها لا أساس لها من الصحة.
پاکستان سعودی عرب دفاعی شراکت داری میں ترکیہ کی شمولیت متوقع؛ جنگی تجربات رکھنے والی افواج کے حامل پاکستان کا کردار کلیدی ہے، جنوبی ایشائی ایٹمی طاقت کسی بھی شراکت داری کو مضبوط دفاعی ساکھ فراہم کرتی ہے۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔