ٹی ٹی پی (کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان) افغان سرزمین کو پاکستان پر حملوں کیلئے استعمال کر رہی ہے جبکہ اسے افغان عبوری حکومت کی لاجسٹک اور مالی معاونت حاصل ہے، یہ گروہ خطہ کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے۔
دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائیاں ہمارے قومی عزم کو لرزہ بر اندام نہیں کر سکتیں، ہر شکل اور ہر قسم کے دہشتگرد حملوں کی قطعی طور پر مذمت کرتے ہیں۔ دہشتگردی ہمارے دور کے بڑے عالمی چیلنجز میں سے ایک ہے۔
Kabul’s protection of TTP commanders is not a glitch in the system; it is the system, a living covenant that weighs more than any clause signed in Doha. The Taliban in Afghanistan are no longer guests or leverage to be casually traded away; they have hardened into a parallel sovereignty that Kabul cannot fully control.
عمران خان کی افغان پالیسی نے قومی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔ سفارتی احتیاط اور ریاستی حکمت کے بجائے انہوں نے قومی مفاد کو ذاتی مقبولیت کے تابع کر دیا، یوں وہ تمام رکاوٹیں کمزور ہو گئیں جو دشمن کی واپسی کے راستے میں حائل تھیں۔ آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، وہ پالیسی کی اصلاح نہیں بلکہ تاخیر سے شروع ہونے والا ایک مشکل اور ناگزیر ریسکیو مشن ہے۔
Pakistan’s Defence Minister Khawaja Asif has accused Afghanistan’s Taliban-led government of supporting terrorism under Indian patronage and spreading false narratives to conceal its internal divisions and governance failures. Speaking through an official statement on X, Asif said there is complete consensus among Pakistan’s political and military leadership on security and foreign policy toward Afghanistan, emphasising that Islamabad’s approach remains rooted in peace, stability, and the national interest.
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔