ایک ذہنی مریض اپنی ذات کے خمار میں مبتلا ہو کر ریاست کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ فوج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی ہر کوشش ناکام بنے گی کیونکہ ایسا بیانیہ صرف دشمن کے ہاتھ مضبوط کرتا ہے۔ جھوٹ، فریب اور پروپیگنڈے کا کاروبار اب مزید نہیں چلے گا۔
ٹی ٹی پی (کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان) افغان سرزمین کو پاکستان پر حملوں کیلئے استعمال کر رہی ہے جبکہ اسے افغان عبوری حکومت کی لاجسٹک اور مالی معاونت حاصل ہے، یہ گروہ خطہ کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے۔
دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائیاں ہمارے قومی عزم کو لرزہ بر اندام نہیں کر سکتیں، ہر شکل اور ہر قسم کے دہشتگرد حملوں کی قطعی طور پر مذمت کرتے ہیں۔ دہشتگردی ہمارے دور کے بڑے عالمی چیلنجز میں سے ایک ہے۔
Kabul’s protection of TTP commanders is not a glitch in the system; it is the system, a living covenant that weighs more than any clause signed in Doha. The Taliban in Afghanistan are no longer guests or leverage to be casually traded away; they have hardened into a parallel sovereignty that Kabul cannot fully control.
عمران خان کی افغان پالیسی نے قومی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔ سفارتی احتیاط اور ریاستی حکمت کے بجائے انہوں نے قومی مفاد کو ذاتی مقبولیت کے تابع کر دیا، یوں وہ تمام رکاوٹیں کمزور ہو گئیں جو دشمن کی واپسی کے راستے میں حائل تھیں۔ آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، وہ پالیسی کی اصلاح نہیں بلکہ تاخیر سے شروع ہونے والا ایک مشکل اور ناگزیر ریسکیو مشن ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس سے پاکستان کا کردار تیز رفتار علاقائی سفارت کاری میں مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
Iran’s Abbas Araghchi is back in Islamabad within around 24 hours of leaving for Muscat, keeping Pakistan at the centre of high-stakes US-Iran diplomacy.
Trump has cancelled his representatives’ planned trip to Islamabad for talks with Iran, saying too much time was being spent on travel and that Tehran can contact Washington directly if it wants negotiations.
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات۔عراقچی نے کہا کہ پاکستان ایران کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتا ہے،مذاکرات میں جنگ بندی، علاقائی امن اور پاک ایران تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met Prime Minister Shehbaz Sharif in Islamabad, describing Pakistan as holding a significant place in Tehran’s foreign policy outlook while briefing Pakistan’s leadership on ceasefire developments, regional stability and bilateral cooperation.