پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی کا رحجان برقرار، ہنڈرڈ انڈکس مسلسل دوسرے روز 82 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کرگیا، سٹاک ایکسچینج 700 سو سے زائد پوائنٹس اضافہ کے ساتھ 82 ہزار 200 پوائٹس کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔
پاکستانی سٹاک مارکیٹ 2024 میں تاریخی بلندیوں کو چھوتے ہوئے دنیا میں بہترین کارکردگی والی مارکیٹ بن گئی، غیرملکی انویسٹمنٹ اور مثبت معاشی اشاریوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے، مہنگائی اور شرح سود میں بھی کمی ہوئی ہے، امریکی جریدہ بلومبرگ۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، ہنڈرڈ انڈکس 82 ہزار پوائنٹس کی نحد بھی عبور کرگیا، سٹاک ایکسچینج 1500 سو سے زائد پوائنٹس اضافہ کے ساتھ 82 ہزار پوائٹس کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔
موڈیز نے پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی صورتحال اور مستحکم ہوتی بیرونی مالیاتی پوزیشن کے پیش نظر پاکستان کی ریٹنگ کو مستحکم نقطہ نظر کے ساتھ سی اے اے 2 تک اپ گریڈ کر دیا ہے۔ موڈیز کے مطابق، پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ بھی نمایاں طور پر کم ہوگیا ہے۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں نیا ریکارڈ قائم ہو گیا، آج تاریخ میں پہلی بار 81 ہزار کی نفسیاتی حد بھی عبور ہو گئی، سٹاک ایکسچینج 12 سو سے زائد پوائنٹس اضافہ کے ساتھ 81 ہزار سے زائد پوائنٹس کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔