پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتہ کے دوسرے روز بھی زبردست تیزی، 100 انڈکس نے 92,000 ریکارڈ پوائنٹس کی سطح عبور کرلی۔ سٹاک مارکیٹ 1000 سے زائد پوائنٹس اضافہ کیساتھ 92,000 پوائنٹس کی سطح عبور کرگئی۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تاریخ ساز دن، بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس میں نیا ریکارڈ قائم ہو گیا، سٹاک ایکسچینج 90 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کر گئی، اب تک 1 ہزار 143 پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی کا رحجان جاری، 100 انڈکس سے 700 زائد پوانٹس اضافہ کیساتھ 87,000 پوانٹس کی سطح عبور کرگیا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ سرمایہ کاروں کا بڑھتا ہوا اعتماد اور معیشت میں استحکام ہے۔
The strong bullish trend in the Pakistan Stock Market continues, with the 100 Index gaining over 600 points, crossing the 86,700 points mark. This surge in the stock market is primarily driven by growing investor confidence and economic stability.
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی کا رحجان جاری، 100 انڈکس سے 600 زائد پوانٹس اضافہ کیساتھ 86,700 پوانٹس کی سطح عبور کرگیا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ سرمایہ کاروں کا بڑھتا ہوا اعتماد اور معیشت میں استحکام ہے۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔