میں نے گرفتاری سے قبل کارکنان کو جی ایچ کیو کے سامنے پرامن احتجاج کی ہدایت کی تھی، جب پارٹی چیئرمین کو رینجرز اغواء کر کے لے جائے گی تو پھر کارکنان جی ایچ کیو کے سامنے ہی احتجاج کریں گے، ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ لانے سے بہتر ہے کہ پاکستان میں سیدھا سیدھا مارشل لاء لگا دیں۔
تحریکِ انصاف اب پاکستان کے وجود کیلئے خطرہ بن چکی ہے، تحریکِ انصاف کو تمام فنڈنگ اور امداد امریکہ سے مل رہی ہے، پورا امریکی نظام تحریکِ انصاف کی حمایت میں بول رہا ہے، پاکستان میں غیر یقینی صورتحال کی ذمہ دار عدلیہ بھی ہے۔
آئین کے مطابق ایڈہاک ججز کی تعیناتی چیف جسٹس نے نہیں بلکہ جوڈیشل کمیشن نے کرنی ہے۔ چیف جسٹس نے توسیع میں دلچسپی ظاہر نہیں کی، جبکہ جسٹس منصور علی شاہ اس تجویز سے متفق تھے۔ تحریک انصاف رہنماؤں پر آرٹیکل 6 کا معاملہ پارلیمنٹ میں لایا جا سکتا ہے۔
موجودہ اسٹیبلشمنٹ کا ماننا ہے کہ 2014 سے میاں نواز شریف کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور اگر اس وقت کے اقدامات نہ ہوتے تو آج پاکستان اس بحران میں نہ ہوتا۔ عدلیہ کو پیغام دیا گیا ہے کہ آپ نے اپنا زور لگا لیا، اب ہماری باری ہے۔ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ جو جرم کا اعتراف نہیں کرے گا، وہ نتائج کے لیے تیار ہو جائے۔
ہم نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے، تحریکِ انصاف پر آرٹیکل 6 ضرور لگنا چاہیے، پی ٹی آئی پر پابندی کیلئے پارلیمنٹ میں اتحادی جماعتوں سے مشاورت کریں گے، نو مئی پاکستان کے وجود پر حملہ تھا، امریکا غزہ سے متعلق بھی تشویش کا اظہار کرے۔
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔