حکومت نے پاکستان تحریکِ انصاف پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی جبکہ عمران خان، عارف علوی اور قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل 6 کا مقدمہ چلایا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے آئین کو از سر نو تحریر کیا اور فیصلے کی ہوم ڈلیوری کی۔ یہ ہوم ڈلیوری اس فریق کو کی گئی ہے جو کیس میں فریق ہی نہیں تھا۔ آئین کو دوبارہ لکھنے، بدلنے اور ترمیم کرنے کا حق صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کیس میں سزاؤں کے خلاف اپیلز کو منظور کرتے ہوئے سات سات برس قید کی سزاؤں کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے، مختصر فیصلے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بری کر دیا گیا۔
تحریکِ انصاف مخصوص نشستوں کے حصول کی مستحق ہے، تحریکِ انصاف 15 روز میں مخصوص نشستوں کے افراد کی فہرست دے، سنی اتحاد کونسل نے الیکشن 2024 میں حصہ نہیں لیا، سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی مستحق نہیں۔
آپ کے لاجک کے مطابق آپ کو صفر مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں، الیکشن 2018 کی بات کریں گے تو پورا الیکشن 2018 کھولنا ہو گا، آپ کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتا، کیا 2018 کے انتخابات درست تھے؟
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔