میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن لڑ سکتا ہوں، کیا شہباز شریف اور انکے ساتھی 16 ماہ کی کارکردگی پر الیکشن لڑ سکتے ہیں؟ پیپلز پارٹی کو کبھی لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی، اسٹیبلشمنٹ سے کوئی اختلاف نہیں۔
کابل جا کر فوٹو سیشن کروانے والوں اور طالبان حکومت کے ساتھ انگیج کرنے والوں نے ملک کی تقدیر کے ساتھ کھلواڑ کیا، پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لیے بغیر بڑے دہشتگردوں کو کیوں رہا کروایا گیا؟
نواز شریف کو وزارت عظمی سے 99 میں ہٹاکر جیل بھیجنا ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ تھا یا2002، 2008 کا الیکشن لڑنے نہ دینا ”لیول پلیئنگ فیلڈ۔“ 2017 میں وزارت عظمی سے بےدخل کرکے تاحیات نااہل کرنا بیٹی سمیت جیل بھیجنا ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ تھا؟
پاکستان مسلم لیگ نواز نے آئندہ انتخابات کیلئے سینیٹر اسحاق ڈار کو الیکشن سیل کا چیئرمین مقرر کر دیا، سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار پاکستان کی مجلسِ شوریٰ میں ایوانِ بالا کے رکن ہیں۔
نواز شریف اقتدار میں واپس آ کر ملکی معاشی بدحالی کا خاتمہ کر سکتے ہیں، نواز شریف 2013 سے 2017 تک اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران بھی ملک میں معاشی استحکام لا چکے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔
أكدت باكستان أنها ستقف إلى جانب السعودية في حال وقوع هجمات إيرانية، مهما كانت الظروف ومهما كان التوقيت. وبحسب بلومبرغ، فإن العلاقة بين الرياض وإسلام آباد قامت دائماً على مبدأ الوقوف المشترك في أوقات الأزمات والتحديات.