نواز شریف پاکستان کے زخموں پر مرہم ہیں، 21 اکتوبر کو کسی فردِ واحد کی واپسی نہیں بلکہ ملک میں امید کی واپسی ہے، ترقی و خوشحالی کی واپسی ہے، امن اور روزگار کی واپسی ہے، سستی بجلی اور سستی گیس کی واپسی ہے۔
سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی پر جن دہشتگرد عناصر کی جانب سے ایک بڑا حملہ کیا گیا تھا، انھی کے متعلق یہ اطلاعات ہیں کہ وہ اب مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
ہنستے بستے پاکستان کو سازش کے تحت تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا اور کھلنڈروں کے ٹولے کو ملک پر مسلط کر دیا گیا، جب تک تمام سازشی کردار کیفرِ کردار تک نہیں پہنچائے جائیں گے تب تک پاکستان آگے نہیں بڑھ سکے گا۔
کروڑوں عوام کے وزیراعظم کو چار ججز نے گھر بھیج دیا، اس کے پیچھے جنرل (ر) باجوہ اور فیض حمید تھے، آلہ کار ثاقب نثار اور آصف کھوسہ تھے، ملک کو اس حال تک پہنچانے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ہو گا۔ نواز شریف کا پارٹی اجلاس سے خطاب
Zulfikar Bukhari's remarks to Reuters, describing a freed Imran Khan as unwilling to confront army chief Asim Munir, don't just shift PTI's tone. Coming from one of Khan's closest aides, they quietly kill the "dut kar khara hai kaptaan" promise that has held the party's base together for two years.
The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔