سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دینے کا صدارتی ریفرنس دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کرنے کا فیصلہ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں لارجر بینچ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے نوجوانوں کی نمائندگی کوئی کھلاڑی نہیں بلکہ "میں" کروں گا، پیپلز پارٹی عوام کی نمائندگی کرتی ہے اور باقی تمام جماعتیں اشرافیہ کی نمائندگی کرتی ہیں، پیپلز پارٹی کے پاس تمام مسائل کا حل ہے۔
Over its 55-year history, the Pakistan People's Party has been a transformative force in Pakistan, championing inclusivity and social welfare under the leaderships of Zulfikar Ali Bhutto, Benazir Bhutto, and Asif Ali Zardari, and continuing its legacy with Bilawal Bhutto Zardari.
جو کہتا تھا سب کو جیل بھیجوں گا، آج وہ خود جیل میں بیٹھا ہے، عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی وہ اونٹ ہو گا جو جہاں بیٹھے گا وہیں حکومت ہو گی، الیکشن کے نتائج الیکشن سے پہلے طے کرنے ہیں تو پھر الیکشن کا کوئی فائدہ نہیں۔
میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن لڑ سکتا ہوں، کیا شہباز شریف اور انکے ساتھی 16 ماہ کی کارکردگی پر الیکشن لڑ سکتے ہیں؟ پیپلز پارٹی کو کبھی لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی، اسٹیبلشمنٹ سے کوئی اختلاف نہیں۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔