سابق وزیراعظم عمران خان نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے عہدے کے لیے باضابطہ طور پر اپنی امیدوار بننے کا اعلان کر دیا۔ یہ اقدام انہوں نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے کیا ہے،جہاں وہ کرپشن سمیت مختلف قانونی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔
عمران خان نے 9 مئی کے واقعات پر مشروط معافی کا اعلان کیا ہے، کہا کہ اگر پی ٹی آئی کے کارکن ملوث پائے گئے تو معافی مانگوں گا اور ان کے خلاف کارروائی بھی کروں گا۔ انہوں نے رینجرز کی جانب سے بدسلوکی پر بھی معافی کا مطالبہ کیا۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ امتیازی اور ایک پارٹی کے حق میں ہے، پی ٹی آئی کیس میں فریق نہ تھی، الیکشن کمیشن کبھی اپنا مؤقف بیان کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ نے فیصلہ میں آئین و قانون کے آرٹیکلز و شقوں کو نظر انداز کیا اور عدالتی دائرہِ اختیار سے تجاوز کیا، جولائی 12 کا فیصلہ واپس لیا جائے.
قومی اسمبلی میں الیکشن ایکٹ ترمیمی بِل 2024 کثرتِ رائے سے منظور؛ پارٹی سرٹیفکیٹ جمع نہ کرانے والا امیدوار آزاد تصور ہو گا، مقررہ مدت میں مخصوص نشستوں کی فہرست جمع نہ کرانے والی سیاسی جماعت مخصوص نشستوں کی حق دار نہ ہو گی، مقررہ مدت میں ایک بار کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کا اظہار ناقابل تنسیخ ہو گا۔
میں نے فوج پر کبھی کوئی الزام نہیں لگایا، ہم فوج سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، فوج اپنا نمائندہ مقرر کرے، جسٹس عامر فاروق مجھے ٹیریان کیس میں پھنسانا چاہتا تھا، جماعتِ اسلامی کے دھرنا اور لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بلوچ عوام کی حمایت کرتا ہوں۔
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔