فیض آباد دھرنے کے بعد سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مسلسل ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، کسی کو قتل کے فتوے جاری کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بےبنیاد الزام لگانے والے کی وہی سزا ہے جو اس الزام کے مرتکب فرد کو دی جاتی ہے، ریاست مذہب، سیاست یا ذاتی مفادات کے نام پر کوئی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گی۔
ہماری حکومت امریکہ نے نہیں گرائی، عمران خان نے سیاسی فائدے کیلئے جھوٹا بیانیہ بنایا، ہماری حکومت جنرل باجوہ نے بنائی اور انہوں نے ہی گرائی، تحریکِ عدم اعتماد کو مسترد کرنا غیرآئینی اقدام تھا، دھرنا 2014 کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا کردار تھا، سابق وفاقی وزیر شفقت محمود
ادارے نیوٹرل ہو جائیں کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اِس حکومت کو ادارے لائے ہیں، اداروں کے خلاف نفرت پھیل رہی ہے، حکومت میں نااہل و نکمے اور پنوتی اعظم بیٹھے ہیں، یہ لوگ جس چیز پر ہاتھ ڈالتے ہیں وہ تباہ ہو جاتی ہے۔
وزیرِ اعلٰی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور
عمران خان کو اعترافِ جرم کے بعد اب سزا ملنی چاہیے، قانونی لاڈلا نہ بنایا جائے، ریاست پر حملہ کرنا انقلابی ہونا ہے؟ تحریکِ انصاف دہشتگرد جماعت ہے جس نے سیاست کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے، بھوک ہڑتال والے کہتے ہیں کہ پاکستان کو بھوکا کرنے والے عمران خان کو باہر نکالا جائے۔
عمران خان اقتدار کی خاطر کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، تاریخ گواہ ہے عمران خان نے جس کیلئے نازیبا گفتگو کی پھر اس کے پاؤں پکڑے، عمران خان نے ڈیڑھ برس نفی کے بعد جی ایچ کیو احتجاج کا اعتراف کر لیا ہے، عمران خان کی طرف سے ترلے منتیں شروع ہو چکی ہیں۔
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔