موجودہ اسٹیبلشمنٹ کا ماننا ہے کہ 2014 سے میاں نواز شریف کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور اگر اس وقت کے اقدامات نہ ہوتے تو آج پاکستان اس بحران میں نہ ہوتا۔ عدلیہ کو پیغام دیا گیا ہے کہ آپ نے اپنا زور لگا لیا، اب ہماری باری ہے۔ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ جو جرم کا اعتراف نہیں کرے گا، وہ نتائج کے لیے تیار ہو جائے۔
عمران خان کی جیل سے فوری رہائی ہوتی نظر نہیں آ رہی، مسلم لیگ ن کی موجودہ اتحادی حکومت قائم رہے گی۔ نئے آئی ایم ایف فنڈز کی تقسیم اور بہتر ہوتی معیشت چھوٹی جماعتوں کو حکومتی اتحاد کا حصہ رہنے کی ترغیب دے گی۔ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ
ہم نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے، تحریکِ انصاف پر آرٹیکل 6 ضرور لگنا چاہیے، پی ٹی آئی پر پابندی کیلئے پارلیمنٹ میں اتحادی جماعتوں سے مشاورت کریں گے، نو مئی پاکستان کے وجود پر حملہ تھا، امریکا غزہ سے متعلق بھی تشویش کا اظہار کرے۔
حکومت نے پاکستان تحریکِ انصاف پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی جبکہ عمران خان، عارف علوی اور قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل 6 کا مقدمہ چلایا جائے گا۔
شہباز شریف ہمارے ایم این ایز کو اغواء کرنے کیلئے آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کو استعمال کر رہے ہیں، آج ہمارے ایم این اے امیر سلطان کو اغواء کیا گیا ہے، انٹیلیجنس ایجنسیز کے سربراہوں کو چاہیے کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت سے باز رہیں۔
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔