اسٹیبلشمنٹ کی حکومت ہے، شہباز شریف فیتے کاٹنے کیلئے ہے، اسٹیبلشمنٹ پاکستان کو بچانا چاہتی ہے تو فیئر الیکشن کی طرف جانا ہو گا، مجھے یوں ٹریٹ کیا جا رہا ہے جیسے میں نے پاکستان میں سب سے بڑی غداری کی ہے۔
تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں جب ہمیں گرفتار کیا گیا اور جیلوں میں قید کیا گیا تو اسد قیصر گُھگو بن کر سپیکر کی کرسی پر بیٹھا رہا، اسد قیصر نے بطور سپیکر پارلیمنٹ کی جو توہین کی اس پر یہ ایوان آج بھی شرمندہ ہے۔
شہزاد اکبر نے کابینہ کو بتایا کہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر باہر بھجوائی گئی بڑی رقم برطانیہ میں پکڑی گئی اور واپس آ رہی ہے، رقم کے حوالہ سے کاغذات بند لفافہ میں پیش کیے گئے، اضافی ایجنڈے پر مجھ سمیت کابینہ کے دیگر اراکین نے اعتراض کیا۔ پرویز خٹک
آپ کے لاجک کے مطابق آپ کو صفر مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں، الیکشن 2018 کی بات کریں گے تو پورا الیکشن 2018 کھولنا ہو گا، آپ کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتا، کیا 2018 کے انتخابات درست تھے؟
عمران خان نے کہہ دیا کہ عدالتوں، آئین اور اداروں پر اعتماد نہیں تو ہم انصاف اور حق لیکر دکھائیں گے اور بتائیں گے آزادی کیا ہوتی ہے۔ عمران خان کے خلاف گواہی دینے والا خیبرپختونخواہ میں نہیں رہ سکے گا، ایک ایک دن کا حساب لیں گے، تمہارا وہ حشر کریں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی۔
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔