پاکستان میں اقلیتوں کیخلاف بڑھتے حملے ہمارے لیے باعثِ شرمندگی ہیں، ذاتی جھگڑوں پر توہینِ مذہب کا الزام لگا کر قتل کیا جا رہا ہے، ملک جتنا ہمارا ہے اتنا اقلیتوں کا بھی ہے، تحریکِ انصاف آج بھی 9 مئی والی ہے اور دہشتگردوں کیساتھ کھڑی ہے۔
ہمیں پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیز بالخصوص آئی ایس آئی کا بجٹ بتایا جائے، وہ بجٹ کہاں لگایا جا رہا ہے؟ ملک کی معیشت بکھر چکی ہے، چینی راہنما نے جو کچھ کہا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ ہمیں اپنا گھر درست کرنے کا کہا جا رہا ہے۔
عمران خان ڈِگّی میں چھپ کر گیا اور جنرل اعجاز امجد کے گھر پر جنرل باجوہ کے گِٹّوں کو ہاتھ لگائے، اب یہ کسی اور کے گِٹّے پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ 9 مئی اور آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط کی معافی مانگیں، عمر ایوب ماضی میں چمچہ گیری کرتا رہا ہے۔
تحریکِ انصاف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نیب ترامیم کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کی جانب سے کمرہِ عدالت میں کی گئی گفتگو کی آڈیو جاری کر دی۔
Imran Khan's jail cell, equipped with luxuries like an LED TV, cooler, private kitchen, and library, starkly contrasts with his own past directives to remove such privileges for prisoners like Nawaz Sharif, illustrating the irony and political complexities of his incarceration despite being involved in cases for selling state properties, and misusing his authority while in power in a show of financial misconduct.
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔