شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن سمٹ میں کئی بڑے سربراہانِ مملکت آ رہے ہیں۔ پاکستان روس، چین، برطانیہ اور امریکہ سمیت سب کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات چاہتا ہے۔ شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کامیاب جا رہی ہے۔ پاکستان میں صرف ایک پارٹی کی ضد کی وجہ سے سیاسی بھونچال ختم نہیں ہو رہا۔
پی ٹی آئی کی وفاق پر یلغار روکنے کیلئے پوری طاقت اور وسائل بروئے کار لائیں گے، ، پی ٹی آئی کی پوری ڈیفینیشن یہی ہے کہ عمران خان نہیں تو پاکستان نہیں، عمران خان کے کئی چہرے ہیں، کیا عدالتوں کو نظر نہیں آ رہا کہ عمران خان ملکی سالمیت پر حملے کر رہا ہے؟
خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں علی امین گنڈاپور نے آئی جی اسلام آباد کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسلام آباد پر چڑھائی کی دھمکی دے دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی فوج سے لڑائی نہیں چاہتی، مگر انہیں جلسے کی اجازت نہ دینے اور کارکنان پر پولیس کے تشدد کے بعد احتجاج کا راستہ اپنانا پڑا۔
Imran Khan’s PTI skipping the APC on Palestine while he's in jail? Sure, because nothing screams “leadership” like ghosting a major diplomatic issue. Maybe he’s too busy plotting his next chess move with Israel, as some suggest. Clearly, supporting Palestine only matters when he’s the star of the show.
کل ساری رات کے پی ہاؤس اسلام آباد میں تھا، اسلام آباد پولیس نے چار چھاپے مارے مگر میں نہ ملا، بُرے وقت میں چھوڑنے والا بزدل ہے، عمران خان قوم کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہم مرتے دم تک جنگ لڑتے رہیں گے، گرفتار کرنا ہے تو کرلو۔
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔
اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔
اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔
Prime Minister Shehbaz Sharif has signed the Islamabad MoU as mediator after Donald Trump and Masoud Pezeshkian endorsed the US-Iran agreement aimed at ending hostilities and reopening the Strait of Hormuz.