The JF-17 arrives in Riyadh with momentum after the May clash reignited scrutiny of air power, and Pakistan is using the spotlight to pitch an export package built around training, sustainment and reliability.
مئی 2025 میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے بعد دنیا بھر میں پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان کو 5 ممالک کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ عالمی دلچسپی پاکستان کیلئے اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
ترکی سعودی عرب اور جوہری صلاحیت رکھنے والے پاکستان کے درمیان قائم دفاعی اتحاد میں شمولیت کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات کر رہا ہے۔ یہ معاہدہ، جس میں کسی ایک رکن پر حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے، نیٹو کے آرٹیکل فائیو سے مشابہ ہے اور اس میں ترکی کی شمولیت مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو نمایاں طور پر بدل سکتی ہے۔
سعودی عرب نے یمن میں حالیہ پیش رفت پر متحدہ عرب امارات کی بعض سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مملکت کی قومی سلامتی ایک ریڈ لائن ہے، اور اس کو لاحق کسی بھی خطرے کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، جبکہ یمن کے امن، خودمختاری اور سیاسی استحکام کی مکمل حمایت کا اعادہ بھی کیا گیا ہے۔
سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے ریاض میں ملاقات کے دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلنٹ کلاس پیش کیا، جبکہ سعودی بیان میں اسے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات اور دفاعی تعاون مضبوط بنانے کی کوششوں کا اعتراف قرار دیا گیا۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای یورپ میں لگژری پراپرٹیز و فائیو سٹار ہوٹلز سمیت وسیع سرمایہ کاری سلطنت رکھتے ہیں جو لندن سے جرمنی و سپین تک ہے۔ مالی طاقت خلیج فارس کی شپنگ سے سوئس بینک اکاؤنٹس و برطانوی پراپرٹیز تک 138 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔