پاکستانی عوام سعودی عرب کیلئے گہری عزت اور محبت رکھتے ہیں، سعودی عرب کے بڑے تجارتی وفد کا دورہِ پاکستان دونوں ممالک کے مابین پائیدار اور برادرانہ تعلقات کی تصدیق کرتا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں عالمی ضمیر جگانے اور پاکستانی عوام کی آواز پوری دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی۔ فلسطین کی حمایت جاری رکھیں گے۔ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔ نو مئی ناقابلِ معافی جرم ہے، اس پر کوئی کمپرومائز نہیں ہو گا۔
اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو عمران خان کی رہائی کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے، عمران خان عوامی رائے اور پاکستانی موقف کے برعکس اسرائیل کیلئے خیالات میں وسعت رکھتے ہیں، عمران خان کیلئے اسرائیل سے متعلق پاکستانی پالیسی میں تبدیلی بہت بڑا چیلنج ہے۔
سعودی ولی عہد اور سعودی عرب کے وزیر اعظم محمد بن سلمان کے مئی کے دوسرے ہفتے میں پاکستان کا دورہ کرنے کا امکان ہے۔ سعودی ولی عہد کے دورے کے دوران پاکستان میں اربوں ڈالرز کی انوسٹمنٹ کے فیصلے متوقع ہیں۔
سعودی سرمایہ کاروں کا اعلیٰ سطحی وفد پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے مذاکرات کرنے پاکستان پہنچ
گیا۔ ولی عہد محمد بن سلمان کی ہدایت پر پہنچنے والے وفد میں 30 سے زائد کمپنیوں کے سرمایہ کار شامل ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع۔
On the first anniversary of Marka-e-Haq, Pakistan's military has dismissed the Indian Army Chief's "geography or history" warning as the rhetoric of a state suffering "a bankruptcy of cognitive capacities", and has reminded Delhi that any attempt to target a nuclear neighbour would be neither geographically confined nor politically survivable.
Senior US Congressman Jack Bergman, Co-Chair of the Congressional Pakistan Caucus, has formally thanked Prime Minister Shehbaz Sharif and Field Marshal Asim Munir for Pakistan's role in the ongoing US-Iran peace negotiations, describing Islamabad's contribution as "indispensable" and a demonstration of "true statesmanship" in a letter dated 15 May and sent on House of Representatives letterhead.
اسلام آباد کی بڑھتی سفارتی حیثیت نے اسے بیانیے کی جنگ کا ہدف بنا دیا ہے۔ نیتن یاہو کے بیانات سے لِنڈسے گراہم کی تنقید تک اور بھارتی میڈیا کے منظم بیانیہ سے پاکستان کے اندر نئے دہشتگردانہ حملوں تک ایک نئی مخالفانہ لَہر اُبھرتی دکھائی دے رہی ہے۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.