شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس: سپریم کورٹ نے جنرل (ر) فیض حمید و دیگر کو فریق بنانے کیلئے ایک دن کی مہلت دے دی۔ملک کی تباہی کی وجہ یہ ہے کہ ہم شخصیات کی بجائے پورے ادارہ کو بُرا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ سماعت کرے گا۔
Reconsidering Justice Shaukat Aziz Siddiqui's case under a transparent and unbiased lens would not only serve justice but would also reinforce public trust in the judicial system.
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو اپنے کیس کی شنوائی کیلئے درجنوں خطوط لکھے کہ میرے کیس کا فیصلہ جلد کردیا جائے لیکن آج تک شنوائی نہیں ہوئی۔ میں اب اللہ تعالی کی طرف سےہی انصاف کا طلبگار ہوں۔
ثاقب نثار کی شخصیت ایسی ہے کہ وہ بغیر مفاد کسی بھی قسم کی عمل میں شریک نہیں ہوتے اور ان کا سارا عدالتی کیریئر ایسا ہی ہے۔ اس وقت جو آئینی غیر آئینی، قانونی یا غیر قانونی جو سرگرمیاں جاری ہیں ان سب کا مقصد وہی وعدہ ہے جو عمران خان کی جانب سے اُن سے کیا گیا ہے۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ غزہ کے علاوہ دیگر بین الاقوامی تنازعات تک وسعت کی تجویز بھارت کیلئے کشمیر کے حوالہ سے پریشان کُن ثابت ہو سکتی ہے۔