وزیراعظم شہباز شریف کا برطانیہ سے واپس ملنے والے 190 ملین پاؤنڈ سے اسلام آباد میں عالمی معیار کی دانش یونیورسٹی آف اپلائیڈ اینڈ ایمرجنگ سائنسز قائم کرنے کا اعلان۔ یونیورسٹی کا باقاعدہ آغاز 14 اگست 2026 کو ہوجائیگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بڑے دہشتگرد کی گرفتاری میں پاکستان کے کردار کی تعریف، پاک امریکی تعلقات مضبوطی کی جانب اشارہ۔ صدر ٹرمپ کی پاکستانی حکومت کی تعریف کے بعد عمران خان کے حامی جو امریکی دباؤ کے ذریعے ان کی رہائی کی امید کر رہے تھے، اس بیان کے بعد ان کی امیدیں ماند پڑگئیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز
ملکی معیشت دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑی ہو رہی ہے، خود احتسابی ضروری ہے، معاشی ترقی کیلئے سب کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہوں۔ برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ دینے کیلئے ٹھوس تجاویز درکار ہیں، پاکستان اللّٰه کے فضل سے قیامت تک قائم رہے گا۔
پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام کے حوالہ سے نیشنل ڈیفینس کمپلیکس اور دیگر اداروں پر امریکی پابندیاں بلاجواز ہیں، پاکستان کا میزائل پروگرام 24 کروڑ عوام کا پروگرام ہے جو ہمیں دِل و جان سے زیادہ عزیز ہے، یہ پروگرام دفاعی قوت میں اضافہ کیلئے ہے اور اس پر کسی طرح کا کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا، پاکستان کے خلاف کوئی جارحیت ہو گی تو ہم اپنا بھرپور دفاع کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔