افغانستان کی زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ ریاستی دہشتگردی کی کھل کر مذمت کرنا ہو گی، فلسطین پر جاری اسرائیلی مظالم کا سلسلہ بند اور فلسطینیوں کو ان کا حقِ آزادی ملنا چاہیے، پاکستان القدس دارالحکومت کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ کرتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں روس کے صدر پیوٹن سے ملاقات، وزیراعظم شہباز شریف نے پیوٹن کو پانچویں بار روس کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی، پاک روس تعلقات کسی اور ملک سے تعلق یا جیوپولیٹیکل صورتحال سے متاثر نہیں ہونگے۔
پاکستان فلسطینیوں پر جاری مظالم اور نسل کشی کی سخت مذمت کرتا ہے، جب تک فلسطینیوں کو انکا حق، آزادی اور سرزمین نہیں مل جاتی دنیا میں امن قائم نہٰں ہو سکتا، پاکستان مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی بھی سخت مذمت کرتا ہے۔
پاکستانی سٹاک مارکیٹ ایشیا کی بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹ بن گئی، رواں برس ڈالر کے لحاظ سے 27 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، روپیہ مستحکم ہوا ہے جبکہ افراطِ زر میں کمی سے شرح سود میں بھی کمی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
عمران خان کا ایجنڈا پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور فتنہ و فساد پھیلانے کا ہے، پاکستان کی سلامتی اور بہتری اسی میں ہے کہ عمران خان جیل میں رہے، عمران خان جمہوریت پر نہیں بلکہ فسطائیت پر یقین رکھتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔