حکومت نے پاکستان تحریکِ انصاف پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی جبکہ عمران خان، عارف علوی اور قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل 6 کا مقدمہ چلایا جائے گا۔
شہباز شریف ہمارے ایم این ایز کو اغواء کرنے کیلئے آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کو استعمال کر رہے ہیں، آج ہمارے ایم این اے امیر سلطان کو اغواء کیا گیا ہے، انٹیلیجنس ایجنسیز کے سربراہوں کو چاہیے کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت سے باز رہیں۔
نواز شریف کا دل سے احترام کرتا ہوں، خوشی ہے کہ ان کے بھائی وزیراعظم پاکستان ہیں، آذربائیجان مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور ہمیشہ اپنے پاکستانی بہن بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں جب ہمیں گرفتار کیا گیا اور جیلوں میں قید کیا گیا تو اسد قیصر گُھگو بن کر سپیکر کی کرسی پر بیٹھا رہا، اسد قیصر نے بطور سپیکر پارلیمنٹ کی جو توہین کی اس پر یہ ایوان آج بھی شرمندہ ہے۔
بجلی کے 200 یونٹس استعمال کرنے والے اڑھائی کروڑ صارفین کیلئے 3 ماہ کے بجلی کے بلوں میں 4 سے 7 روپے فی یونٹ بجلی سستی کی جا رہی ہے جس کیلئے 50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو ڈویلپمنٹ فنڈز سے نکالے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔