سعودی ولی عہد اور سعودی عرب کے وزیر اعظم محمد بن سلمان کے مئی کے دوسرے ہفتے میں پاکستان کا دورہ کرنے کا امکان ہے۔ سعودی ولی عہد کے دورے کے دوران پاکستان میں اربوں ڈالرز کی انوسٹمنٹ کے فیصلے متوقع ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول، ڈیزل، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی منظوری دی ہے۔ اس کمی کا مقصد عوام کو مالی راحت ریلیف فراہم کرنا اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس فیصلے سے عوام کے لئے روزمرہ کے اخراجات میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔
میاں نواز شریف ایک اشاہ کریں گے اور ہم فوری طور پر حکومت تحلیل کر دیں گے، نواز شریف جب تک چاہیں گے حکومت قائم رہے گی اور جب نواز شریف چاہیں گے کہ حکومت ختم ہو جائے اُس دن حکومت ختم ہو جائے گی۔
During his three-day visit to Saudi Arabia, Pakistani Prime Minister Shehbaz Sharif was hosted for Iftar by Crown Prince Mohammed bin Salman at Al-Safa Palace in Makkah, where they discussed enhancing bilateral ties and potential economic collaborations.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.
Prime Minister Shehbaz Sharif says Pakistan has received Iran’s response, signalling that Islamabad’s mediation channel remains active as regional diplomacy enters a sensitive phase.