ثاقب نثار کی شخصیت ایسی ہے کہ وہ بغیر مفاد کسی بھی قسم کی عمل میں شریک نہیں ہوتے اور ان کا سارا عدالتی کیریئر ایسا ہی ہے۔ اس وقت جو آئینی غیر آئینی، قانونی یا غیر قانونی جو سرگرمیاں جاری ہیں ان سب کا مقصد وہی وعدہ ہے جو عمران خان کی جانب سے اُن سے کیا گیا ہے۔
کیا اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سے پوچھا جائے گا کہ ان کی سرپرستی میں اور انھی کی ناک کے نیچے جنرل (ر) فیض حمید کیسے ان جرائم میں ملوث رہا؟
پاکستان کی بری حالت کا ذمہ دار عمران خان اور اسکے ساتھ پورا گینگ ہے جس نے پاکستان کو نوچ نوچ کر کھایا ہے۔ اس گینگ کا سرغنہ عمران خان ہے، اس گینگ میں پاکستان کا ہر کرپٹ ترین شخص موجود ہے چاہے وہ ثاقب نثار ہو جنرل فیض ہو جسٹس مظاہر نقوی ہو وہ کوئی بھی کرپٹ ترین شخص ہو وہ اس گینگ کا حصہ نکلے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کوئی پنچایت نہیں اس کا کام ثالثی کروانا نہیں انکا کام آئین و قانون کے تحت فیصلے دینا ہے۔
Zulfikar Bukhari's remarks to Reuters, describing a freed Imran Khan as unwilling to confront army chief Asim Munir, don't just shift PTI's tone. Coming from one of Khan's closest aides, they quietly kill the "dut kar khara hai kaptaan" promise that has held the party's base together for two years.
The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔